سلسلہ احمدیہ — Page 561
561 خدمت خلق کی بعض تحریکات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: خدا تعالٰی کے دو حکم ہیں۔اول یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔نہ اس کی ذات میں، نہ صفات میں ، نہ عبادات میں۔اور دوسرے نوع انسان سے ہمدردی کرو۔اور احسان سے یہ مراد نہیں کہ اپنے بھائیوں اور رشتہ داروں ہی سے کرو بلکہ کوئی ہو، آدم زاد ہو اور خدا تعالی کی مخلوق میں کوئی بھی ہو۔“ ( المحفوظات جلد 9 صفحہ 164 مطبوعہ انگلستان ایڈیشن 1985ء) اسی طرح آپ نے فرمایا: مخلوق کی ہمدردی ایک ایسی شے ہے کہ اگر انسان اسے چھوڑ دے اور اس سے دور ہوتا جاوے تو رفتہ رفتہ پھر وہ درندہ ہو جاتا ہے۔انسان کی انسانیت کا یہی تقاضا ہے اور وہ اُسی وقت تک انسان ہے جب تک اپنے دوسرے بھائی کے ساتھ مروت ، سلوک اور احسان سے کام لیتا ہے اور اس میں کسی قسم کی تفریق نہیں ہے۔۔۔یا درکھو ہمدردی کا دائرہ میرے نزدیک بہت وسیع ہے۔کسی قوم اور فرد کو الگ نہ کرے۔میں آج کل کے جاہلوں کی طرح یہ نہیں کہنا چاہتا کہ تم اپنی ہمدردی کو صرف مسلمانوں سے ہی مخصوص کر و۔نہیں۔میں کہتا ہوں کہ تم خدا تعالی کی ساری مخلوق سے ہمدردی کرو خواہ وہ کوئی ہو۔ہندو ہو یا مسلمان یا کوئی اور۔میں کبھی ایسے لوگوں کی باتیں پسند نہیں کرتا جو ہمدردی کو صرف اپنی ہی قوم سے مخصوص کرنا چاہتے ہیں۔اسی طرح فرمایا: ( ملفوظات جلد چہارم۔ایڈیشن 2003، مطبوعہ انڈ یا صفحہ 216-217) نوع انسان پر شفقت اور اس سے ہمدردی کرنا بہت بڑی عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے یہ ایک زبر دست ذریعہ ہے۔" ( ملفوظات جلد چہارم۔ایڈیشن 2003 صفحہ 438 مطبوعہ انڈیا )