سلسلہ احمدیہ — Page 532
532 تشریف لائے اس وقت تک فرانس کے 22 شہروں میں احمدیت کا نفوذ ہو چکا تھا اور 13 مضبوط، فعال اور مستحکم جماعتیں قائم ہو چکی تھیں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے الجزائر، بنگلہ دیش، آئیوری کوسٹ، قموروز، کانگو، مصر، گھانا، گنی کوناکری، انڈیا، لاؤس (LAOS)، مالی، مراکش، جزیره Martinique، ماریشس، موریطانیه، نائیجر، پاکستان ری یونین آئی لینڈ، سینیگال، سیر یا، ٹوگو، کانگو ( کنشاسا)، تیونس، ترکی، مڈغاسکر، کوسووو، برطانیہ، سنگاپور، فلپائن، لکسمبرگ، فرانس اور گیانا گل 33 مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگ احمدیت میں داخل ہو چکے تھے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے مختلف قوموں اور ملکوں سے تعلق رکھنے والے یہ احمدی خلافت احمدیہ کے ذریعہ وحدت کی لڑی میں پروئے ہوئے بہت مخلص اور فدائی اور خدمت سلسلہ میں مصروف ہیں۔اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اُس وقت (اکتوبر 2008ء میں) فرانس جماعت کی نیشنل مجلس عاملہ کے 23 ممبران میں سے صرف چار پاکستانی تھے اور 19 کا تعلق دیگر مختلف اقوام سے تھا۔حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ نے 28 دسمبر 1984ء والے خطبہ جمعہ میں احباب جماعت کو تبلیغ کی طرف خصوصیت سے توجہ دلاتے ہوئے فرمایا تھا: تبلیغ کی طرف غیر معمولی توجہ کریں اور حقیقی خوشی مجھے جماعت فرانس کی طرف سے تب پہنچے گی کہ دیکھتے دیکھتے جماعت کی کایا پلٹ جائے۔جہاں کوئی بھی وجود بظاہر احمدیت کا نظر نہیں آتا تھا وہاں ایک عظیم الشان جماعت قائم ہو جائے اور صرف فرانس کے لئے نہیں تمام دنیا میں جہاں فرانسیسی بولی جاتی ہے وہاں کے لئے فرانس میں ایک مضبوط مرکز قائم ہو۔(مخطیہ جمعہ فرمودہ 28 رو سمبر 1984ء بمقام پیرس۔خطبات ظاہر جلد 3 صفحہ 781) اللہ تعالی نے حضرت خلیفہ مسیح الرابع کی اس خواہش کو بھی بڑی شان سے پورا فرمایا اور جماعت احمدیہ فرانس نہ صرف ملک کے اندر مسلسل ترقی کرتی رہی بلکہ فرانس مشن کی مساعی جمیلہ سے 2008 ء تک آٹھ ممالک Martinique ، French Guyana Haiti Andora Monaco Palau St Martin اور Guadeloupe میں بھی احمدیت کا نفوذ ہوا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے