سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 522 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 522

522۔۔مولوی ظہور حسین صاحب بعد میں جب اکیلے روس میں داخل ہوئے تو وہ بھی دس تاریخ تھی اور یہ دس دسمبر کا دن تھا۔آپ آرتھاک (Qrthak) پہنچے لیکن جب آپ بخارا جانے کے لئے ( یہاں طے ہوا تھا کہ یہ اور محمد امین خاں صاحب ملیں گے ) ریلوے سٹیشن پر پہنچے تو وہاں آپ کو گرفتار کر لیا گیا اور اس کے بعد پھر ایک لمبا دور آپ کو اذیتیں دینے کا شروع ہوا۔اسی حالت میں جب آپ قید تھے (چونکہ آپ کو رشین زبان نہیں آتی تھی، کوئی ساتھیوں سے رابطہ نہیں تھا ) تو آپ نے رویا میں دیکھا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ظہور حسین ! آپ جیل میں تبلیغ نہیں کرتے۔اس رویا سے وہ خدائی منشاء سمجھ گئے اور اپنے ساتھیوں سے روسی زبان سیکھنا شروع کر دی اور چونکہ کچھ مسلمان قیدی بھی ساتھ تھے اس لئے ان سے زبان بھی سیکھی اور ان کو تبلیغ بھی شروع کی۔چنانچہ سب سے پہلا روس میں جو احمدی ہوا ہے وہ جیل میں ہوا ہے اور اس طرح سنت یوسفی دہرائی گئی۔مولوی صاحب کو نمازوں میں منہمک دیکھتے اور جس طرح ان کی طبیعت میں غیر معمولی رفت پائی جاتی تھی ( یہ انہوں نے کتاب میں تو ذکر نہیں کیا لیکن ہم جو بچپن سے ان کو جانتے ہیں۔ہمیں علم ہے کہ بہت ہی رقیق القلب تھے اور جلد جذباتی ہو جایا کرتے تھے تو نمازوں میں بھی ان کی یہی کیفیت ہوا کرتی تھی ) اس کا اور ان کی تلاوت کا ان کے ساتھیوں پر گہرا اثر ہوا اور اس کے نتیجے میں ان کو زیادہ دلچسپی پیدا ہوئی۔ان کی کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ روس میں وہ شخص جو سب سے پہلے احمدی مسلمان ہوا ہے وہ عبد اللہ خان تھا۔یہ عبد اللہ خان تاشقند کا رہنے والا تھا اور اپنے علاقے کا بہت بڑا اور بارسوخ انسان تھا۔عبد اللہ خان کے ذریعے پھر اور قیدیوں میں بھی احمدیت میں دلچسپی پیدا ہوئی اور کئی قیدیوں نے ان کی معرفت پھر " پیٹھیں کیں۔یہ واقعہ۔۔۔1924ء کا ہے۔اس کے بعد مولوی ظہور حسین صاحب کے ساتھ مرکز کا بھی رابطہ کچھ عرصہ کٹا رہا۔پھر جب وہ واپس آئے تو اس وقت اتنی ہوش نہیں تھی کہ بتائیں کہاں کہاں احمدی ہیں اور ان سے کس طرح رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے۔چنانچہ رابطہ بالکل کٹ گیا اور رابطہ کٹنے کے باوجود مولوی ظہور حسین صاحب ہمیشہ اس بات پر مصر رہے اور اس بات کے قائل رہے کہ وہاں احمد یہ جماعتیں قائم