سلسلہ احمدیہ — Page 520
520 نہیں لیکن ایک اخبار وطن Weekly London نے جو بیان کیا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگلا دن یعنی دس تاریخ شروع ہونے کے وقت در اصل دیوار برلن کے اوپر حملہ ہوا ہے۔چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ : ”حکومت نے اپنی سرحدیں کھولنے اور اپنے شہریوں کو مغرب کی طرف جانے کی اجازت دے دی اور پھر کیا تھا، شہریوں کا ایک سیلاب آ گیا اور نصف شب کے بعد لوگوں نے دیوار برلن پر ہلہ بول دیا۔پس نصف شب کے بعد ہلہ بولنا بھی معنی رکھتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف اسلامی لحاظ سے ہی وہ دس تاریخ شروع نہیں ہوئی تھی بلکہ انگریزی کیلنڈر کے لحاظ سے بھی دیوار برلن پر جب ہلہ بولا گیا ہے تو دس تاریخ شروع ہو چکی تھی۔اس سلسلہ میں مذہبی نقطہ نگاہ سے جو اہمیت ہے، اس کے متعلق میں کچھ باتیں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں جو جماعت احمدیہ کی تاریخ سے تعلق رکھتی ہیں۔روس کے متعلق تقریبا سب احمدی جانتے ہیں، بچے بچے کو یہ علم ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ خوشخبری دی تھی کہ جماعت احمد یہ کورس میں وہ ریت کے ذروں کی طرح پھیلا دے گا اور ایک رویا میں آپ نے روس کے عصا کو اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے دیکھا اور وہ عصا بھی تھا اور بندوق کی نالیوں کی طرح اس عصا کے اندر نالیاں بھی تھیں۔یہ پیشگوئیاں جماعت میں عام ہیں۔یعنی ان کا علم عام ہے اور سب نظریں لگائے بیٹھے رہے کہ کب خدا تعالی ان پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے آثار ظاہر فرمائے گا۔اس سلسلے میں حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت کو بار بار تحریک بھی کی۔ان دنوں میں یعنی انقلاب روس کے بعد شروع کے دس پندرہ سال تک باہر کی دنیا کے لئے روس کے علاقے میں داخل ہونا بہت ہی مشکل تھا۔بعد ازاں سہولتیں پیدا ہوئیں لیکن پابندیاں بھی جاری رہیں۔ان دنوں میں تو بہت ہی مشکل کام تھا اور خطرناک کام تھا اس لئے با قاعدہ جماعت کی طرف سے مبلغ تو بھجوایا نہیں جا سکتا تھا یعنی اجازت لے کر اور ویزا حاصل کر کے۔لیکن حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت کو یہ توجہ دلائی کہ کچھ ایسے لوگ نکلیں جو روس تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں اور اس راہ میں قربانیاں دیں۔