سلسلہ احمدیہ — Page 519
519 گزشتہ سال ایک خطبے میں میں نے دیوار برلن کے گرنے کا ذکر کیا تھا اور یہ بتایا تھا کہ اس صدی کے اہم ترین واقعات میں سے ایک یہ واقعہ ہے اور بلاشبہ سال 1989ء میں ہونے والے تمام واقعات میں سب سے زیادہ اہم یہ واقعہ تھا۔چنانچہ تمام دنیا کے اخبارات میں اس روز یعنی۔۔۔رات کو واقعہ ہوا صبح دوسرے دن یہی شہ سرخیاں لگیں اور سب سے زیادہ اہم اس بات کو قرار دیا گیا کہ دیوار برلن گر گئی ہے۔اس سلسلے میں مجھے چند دن ہوئے اسلام آباد سے نصیر احمد صاحب طارق کی ایک چٹھی موصول ہوئی جس میں انہوں نے بعض ایسی باتوں کی طرف میری توجہ مبذول کروائی جن کی طرف پہلے میرا خیال نہیں گیا تھا۔چنانچہ ان کا خط پڑھ کر میں نے اس پر پوری تحقیق کروائی تو معلوم ہوا کہ جو باتیں انہوں نے لکھی تھیں وہ بالکل درست ہیں۔اس دن جس دن یہ دیوار گرائی گئی ہے، سورج غروب ہو چکا تھا اور اگلے دن کی رات پڑ چکی تھی۔اسلامی حساب سے گویا دن کی تاریخ سورج کے غروب ہونے کے ساتھ ختم تھی اور ایک نئے دن کی رات طلوع ہوئی تھی۔جہاں تک انگریزی کیلنڈر کا تعلق ہے ، نیا دن رات کے بارہ بجے شروع ہوا اور پھر وہ اگلے دن رات کے بارہ بجے تک جاری رہا۔قابل توجہ بات یہ ہے کہ وہ دس تاریخ تھی اور جمعہ کا دن تھا اور جتنے اخبارات میں دنیا میں یہ خبریں شائع ہوئیں، ان پر Friday the 10th عنوان لگا ہوا تھا۔Date Line اس کی یہ بنتی تھی۔اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ جب سے خدا تعالیٰ نے کشفا مجھے یہ واقعہ دکھایا تھا، یہ وہ پہلا Friday ہے جو اسلامی مہینے کے لحاظ سے بھی اور انگریزی مہینے کے لحاظ سے بھی Friday the 10th کہلا سکتا ہے اور پوری طرح یہ دونوں تاریخیں ایک دوسرے کے ساتھ منطبق ہو گئی تھیں۔تو اول تو انگریزی تاریخوں کا اسلامی تاریخوں کے ساتھ منطبق ہو جانا یہ کم کم ہوتا ہے۔اور پھر یہ اس پر مزید اضافہ کہ صرف تاریخوں کا انطباق نہیں تھا بلکہ جمعہ کے دن یہ انطباق ہوا اور اسی دن یہ حیرت انگیز واقعہ بھی رونما ہوا۔اس کے متعلق اخبارات نے جو مختلف خبریں لگائی ہیں، یہ اس کی تفصیل میں جانے کا تو وقت