سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 508 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 508

508 خدا ہے۔وہ اپنی قدرت کے نشان دکھاتا ہے اور زمین کی ہر چیز کو جب چاہے وہ امر فرماسکتا ہے۔تب وہ جگہ جو امن کا ذریعہ بھی جاتی ہے خطرہ کا موجب بن جاتی ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ جب کسی کو پکڑنے کا فیصلہ کرلے تو پھر کوئی آدمی امن میں نہیں رہ سکتا اور یہ مضمون بھی قرآن کریم کی مختلف آیات میں بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔خدا کی تقدیر سے تم کس طرح امن میں رہ سکتے ہو۔وہ تو پابند نہیں ہے۔وہ جس طرح چاہے تمہیں پکڑنے کا فیصلہ کرلے تو پھر تمہارے لئے بچنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔اس نہایت مہیب خطرہ کے ایک دم ظاہر ہونے اور پھر اس کے ٹل جانے میں ایک خوشخبری بھی ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ عذاب دینے میں خوش نہیں ہے۔وہ تنبیہ فرماتا ہے اور خطرات سے متنبہ کرتا ہے اور قوم کو استغفار کا موقع دیتا ہے۔اگر قوم استغفار کرے اور تو بہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے تو اللہ تعالیٰ اس بات میں راضی نہیں ہے کہ لوگوں کو بلاک کرے۔اور وہ پکڑ میں ڈھیلا ہے اور نرمی کرتا ہے۔یہاں تک نرمی کرتا ہے کہ بسا اوقات انبیاء بظاہر جھوٹے ہوتے دکھائے دے رہے ہوتے ہیں اور دنیا کو ان کی تضحیک اور تمسخر کا موقع مل جاتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ پھر بھی اپنی پکڑ میں نرمی اور غیر معمولی مغفرت کا سلوک فرماتا ہے۔پس اگر یہ وہی نشان ہے جس کا خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا تو اس میں جماعت کے لئے بھی اور قوم کے لئے بھی ایک بہت ہی خوشخبری کا پہلو ہے کہ قوم کے لئے ابھی نجات کی راہ باقی ہے۔مہیب خطرات کا ایک نمونہ دکھا دیا گیا ہے لیکن اگر قوم نے استغفار سے کام لیا اور توبہ کی تو ہرگز بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس قوم کو بچائے اور یہی ہم بھی چاہتے ہیں اور اسی کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔اور اس سے سبق کا تیسرا پہلو یہ نکلتا ہے کہ تنبیہ موجود ہے اور نمونہ دکھا دیا گیا ہے کہ اگر تم باز نہیں آؤ گے تو پھر خدا تعالیٰ تم سے کیا سلوک فرمائے گا۔اب معاملہ وہاں تک جا پہنچا ہے کہ جہاں قومی عذابوں کے ذریعہ اور بار بار سزاؤں کے ذریعہ پکڑے جاؤ گے۔اگر تم تو بہ اور استغفار سے کام نہیں لو گے اور تکبر میں اسی طرح مبتلا ہو گے اور خدا تعالیٰ کے پاک بندوں سے تمسخر اور استہزاء کرنے سے باز نہیں آؤ گے تو پھر یہ ایک معمولی سانمونہ ہے جو تمہیں دکھا دیا گیا ہے۔پھر آئندہ تمہارے لئے اسی قسم کا خدا کا سلوک ظاہر ہونے والا ہے۔لیکن جب وہ ایک دفعہ ظاہر ہو جاتا ہے تو پھر اس کے بعد