سلسلہ احمدیہ — Page 499
499 وہ فضل جسے چاہے گا عطا فرمائے گا اور خدا تعالیٰ عظیم فضلوں والا ہے۔تو فضل کے دو کنارے بیان فرمادئیے۔ایک عام فضل جو دنیا کی تجارتوں کے ذریعے دنیا کے رزق کی صورت میں انسان کو ملتا ہے۔ایک وہ فضل جس کی انتہا نبوت ہے اور ان سارے فضلوں کو سورہ جمعہ نے اپنی ذات میں اکٹھا کر لیا۔دونوں کا ذکر فرما دیا۔پھر سورہ جمعہ کے ذریعے تمام دنیا کا اجتماع جو حضرت محمد مصطفی عالم کے جھنڈے تلے ہونا ہے،۔۔۔اس کی خوشخبری بھی دے دی گئی۔کیونکہ مفسرین کی بھاری اکثریت یہ تسلیم کرتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو یہ وعدہ دیا تھا کہ وہ تمام دنیا کے ادیان پر محمد رسول اللہ صلی اللہ کے دین کو غالب کر دے گا، یہ وعدہ مسیح اور مہدی کے زمانے میں پورا ہونا ہے اور اس سورت میں جب آنحضرت مالک کی بعثت ثانیہ کا ذکر آیا تو وہ مہدی کی شکل میں ہی آیا ہے۔پس یہ سورۃ عجیب طور پر جمع کے مضمون کو جمع کر رہی ہے۔مہدی کے ذریعے تمام عالم کو جمع کیا جائے گا اور وہ جو تحریک چلائے گا اس کا بھی اس سورت میں ذکر موجود ہے۔اور زمانوں کو بھی جمع کر دیا جائے گا۔تیرہ سو سال کے فاصلے بیچ میں حائل ہوں گے لیکن ایک عجیب واقعہ ہوگا کہ اگلا زمانہ پچھلے زمانے سے جمع ہوگا۔خدا تعالیٰ کے ہر قسم کے فضل جمع ہوں گے۔اس زمانے میں دنیاوی ترقیات بھی اتنی عظیم الشان ہوں گی کہ انہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جائے گی۔رزق کی بھی ایسی فراوانی ہوگی کہ حیرت ہوگی کہ انسان کو اتنا وسیع رزق بھی مل سکتا ہے اور بعض فضل ڈھونڈنے والے اپنے فضل کے تصور کی انتہا یہی سمجھیں گے کہ بس یہ دنیا کا رزق مل گیا ہے یہی اللہ کا فضل ہے۔اور کچھ اور لوگ ہوں گے جو رضائے باری تعالیٰ کو فضل سمجھیں گے اور اس طرف ابتغاء کریں گے اور دنیا کے رزق کو چھوڑ دیں گے اور اب خدا کے فضل کو اس کی رضا میں ڈھونڈیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی راہ میں کوئی روک نہیں رکھے گا۔ان پر بھی بے انتہا فضل نازل فرماتا چلا جائے گا یہاں تک کہ ان میں سے ایسے بھی ہوں گے جو محد مصطفی میہ کے غلام کامل کا درجہ پالیں گے اور انہیں مہدویت اور مسیحیت عطا ہوگی اور پھر خدا تعالیٰ ان کا ذکر کر کے فرماتا ہے ذلِكَ فَضْلُ الله اے فضل کے ڈھونڈنے والو! اے فضل کے متلاشیو! یہ ہوتا ہے فضل۔تم کیوں اوئی اوئی باتوں پر راضی