سلسلہ احمدیہ — Page 25
25 طاقتوں کا زور چل رہا ہے وہ اپنی مرضی کی حکومتیں مذہب اسلام کے نام پر قائم کئے ہوئے ہیں۔جہاں مغربی طاقتوں کا زور چل رہا ہے وہ اپنی پسند کی حکومتیں قائم کر رہے ہیں اور دونوں کی اس معاملہ میں ایک دوسرے سے سبقت کی دوڑ ہورہی ہے۔چنانچہ پاکستان میں جو کچھ ہورہا ہے یا مشرق وسطی میں جو کچھ ہو رہا ہے یا مشرق وسطی کی جن طاقتوں کو ان اغراض کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے یہ ساری باتیں عالمی سیاست کا اور مشرق اور مغرب کی جنگ کا ایک طبعی نتیجہ ہیں اور یہ ساری کڑیاں ان کے ساتھ جا کر ملتی ہیں۔بہر حال اس وقت جو کچھ پاکستان میں ہو رہا ہے یہ ابھی پوری طرح آپ کے سامنے کھل کر نہیں آیا، میں مختصراً آپ کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ سوائے اس کے کہ اللہ کی تقدیر کسی ایسے وقت میں آکر ان کی اس تدبیر کو کاٹ دے اور خدا کی پکڑ کا وقت ان کی سکیموں کے مکمل ہونے کے وقت سے پہلے آجائے ان کے ارادے ایسے ہیں کہ ان کو سوچ کر بھی ایک انسان جس کا کوئی دنیا میں سہارا نہ ہو اس کی ساری زندگی بے قرار ہو سکتی ہے۔اس کے تصور سے بھی انسان کا وجود لرزنے لگتا ہے۔لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ نہ مجھ پر یہ اثر ہے نہ آپ پر یہ اثر ہوگا کیونکہ میں بھی جانتا ہوں کہ ہمارا خدا موجود ہے جو ہمارے ساتھ رہا ہے ہمیشہ اور ہمارے ساتھ ہمیشہ رہے گا اور آپ بھی یہ جانتے ہیں۔اس لئے جب میں آپ سے یہ بات کرتا ہوں تو ڈرانے کی خاطر نہیں کرتا ، صرف بتانے کے لئے کہ آنکھیں کھول کر وقت گزاریں کہ کیا ارادے ہیں جن کی طرف یہ ملک حرکت کر رہا ہے جن کو رفتہ رفتہ کھول رہا ہے۔اس دور میں یعنی 1984ء کی جو شرارت ہے اس میں ایک مکمل سکیم کے تابع پاکستان میں جماعت احمدیہ کے مرکز کو ملیا میٹ کرنے کا ارادہ تھا اور جماعت احمدیہ کی ہر اس انسٹیٹیوشن، ہر اس تنظیم پر ہاتھ ڈالنے کا ارادہ تھا جس کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔چنانچہ سب سے پہلے انہوں نے ایسے قانون بنائے جن کے نتیجہ میں خلیفہ وقت پاکستان میں رہتے ہوئے خلافت کا کوئی بھی فریضہ سرانجام نہیں دے سکتا۔ایک احمدی جود یہات میں زندگی بسر کر رہا ہے یا شہروں میں بھی غیر معروف زندگی بسر کر رہا ہے وہ اپنے آپ کو مسلمان کہے بھی ، اسلام کی تبلیغ بھی کرے جیسا کہ کرتا ہے تو نہ حکومت کو اس کی کوئی ایسی تکلیف پہنچتی ہے، نہ وہ حکومت کی نظر میں آتا ہے