سلسلہ احمدیہ — Page 450
450 مہدی معہود کی راہ دیکھ رہے تھے۔ہندو کرشن کی آمد ثانی کے منتظر اور بدھ مت کے ماننے والے بدھا کے نئے روپ میں ظاہر ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ہر مذہب میں ایسی قطعی اور واضح پیشگوئیاں موجود تھیں کہ آخری زمانے میں سچائی کے عالمگیر غلبہ کی خاطر خدا تعالیٰ کسی مصلح کو ضرور بھیجے گا۔لیکن مشکل یتھی کہ ہر مذہب اس ظاہر ہونے والے مصلح کو الگ الگ ناموں سے یاد کر رہا تھا۔بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کو اللہ تعالیٰ نے یہ راز سمجھایا کہ مختلف مذاہب میں جو مختلف ناموں سے آخری موعود عالم کی پیشگوئیاں ملتی ہیں اگر چہ وہ سب بنیادی طور پر درست ہیں لیکن یہ درست نہیں کہ خدائے واحد و یگانہ نے ہر مذہب میں الگ الگ مصلح بھیجنا تھا بلکہ مراد یہ تھی کہ ایک ہی مذہب میں جسے خدا تعالیٰ اپنے جلوہ توحید کے لئے اختیار فرماتا، ایک ایسے موغو و عالم کو مبعوث فرمانا تھا جو تمام مذاہب کے موعود مصلحین کی بھی نمائندگی کرتا۔تابنی آدم کو ایک عالمی وحدت کی لڑی میں پرو کر توحید خالق کا ایک رُوح پرور نظارہ توحید خلق کے آئینہ میں دکھایا جاوے۔آپ نے اذنِ الہی کے تابع یہ اعلان کیا کہ وہ مذہب اسلام ہے جسے خدا تعالیٰ نے اپنی توحید کے عالمگیر جلوہ کے لئے اختیار فرمایا ہے اور محمد عربی احمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم وہ آخری صاحب قانون رسول ہیں جو سب جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں اور جن کی غلامی میں وہ مصلح عالم پیدا ہونا تھا جس کا مختلف ناموں کے ساتھ مختلف لبادوں میں مختلف مذاہب میں ذکر ملتا ہے۔بہت عجیب یہ دعوی تھا اور وہ یکا و تنہا آواز جو ہندوستان کی ایک چھوٹی سی گمنام بستی سے بلند ہوئی تھی بظاہر کوئی اہمیت نہ رکھتی تھی کہ قابل توجہ اور قابل پذیرائی سمجھی جاتی۔لیکن تعجب ہے کہ دنیا نے اس آواز کی طرف بڑی سنجیدگی سے توجہ کی۔اور جہاں آپ کی تائید میں دنیا کے مختلف ممالک سے بعض آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں، وہاں مخالفت کا بھی ایک ایسا شور برپا ہوا جس کی نظیر انسانی تاریخ میں شاز شاز ملتی ہے اور ایسے تاریخ ساز ادوار کی یاد دلاتی ہے جب خدا تعالیٰ اپنی نمائندگی میں اپنے بعض کمزور بندوں کو پیغام حق کے لئے کھڑا کرتا ہے اور باوجود اس کے کہ تمام دنیوی طاقتیں ان کی