سلسلہ احمدیہ — Page 422
422 رہا تھا اور سنت انبیاء مجھے یہی دکھا رہی تھی کہ دُعا میں کامل ہو جاؤ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا فضل جتنا بھی نازل ہو اس کو خوشی سے قبول کرو اور تسلیم ورضا کے ساتھ اس پر راضی ہو جاؤ۔پس یہ ہے اس کا پس منظر لیکن جہاں تک حالات کے فرق ہونے کا تعلق ہے۔حالات کے جدا جدا ہونے کا تعلق ہے یا جدا جدا کر دکھانے کا تعلق ہے، یہ ایسا مضمون ہے جس میں کوئی اشتباہ باقی نہیں رکھا کرتا اور کوئی اشتباہ باقی نہیں رہا۔جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اتنی حیرت انگیز پاک تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں، اتنی برکتیں نازل ہوئی ہیں اس دور میں کہ دنیا کا ایک ملک بھی ایسا نہیں جہاں احمدیوں کو نمایاں طور پر یہ احساس نہیں ہوا کہ ہاں ہم ایک نئے وجود کے طور پر ابھر رہے ہیں اور جہاں غیروں نے ان کے ساتھ پہلے سے بہت بڑھ کر محبت اور تعظیم کا سلوک نہیں کیا۔اور وہ ممالک جہاں ان کو پوچھتا بھی کوئی نہیں تھا، وہاں بڑے بڑے لوگوں کی، اخبارات کی، ٹیلی ویژنز کی ، ریڈیوز کی توجہ ان کی طرف مبذول ہوئی اور حالات پلٹ گئے۔ابھی کل ہی کی بات ہے مشرقی افریقہ سے ایک دوست تشریف لائے جو آج خطبہ میں بھی بیٹھے ہوئے ہیں قریشی عبدالمنان صاحب وہ اخبارات کے تراشے لائے اور کچھ اصل اخبارات لائے اور مجھے بتایا کہ ہمارے آنے سے قبل یعنی اسی سال جو اس ملک کے حالات تھے، جو احمدیوں کی وہاں عزت تھی یا احمدیوں سے تعارف تھا لوگوں کو کہتے ہیں اس کا حال آپ نے خود دیکھ لیا تھا۔ایک مجلس میں جب ایک بہت ہی معز اور معروف حج نے، منصف نے آپ کو یہ کہا کہ میں نے تو پہلے احمدیت کا کوئی ذکر نہیں سنا اور آج یہ حال ہے کہ ملک کا بچہ بچہ احمدیت کو جانتا ہے۔اخبارات میں تشہیر ہوئی اور ایسی زبر دست اتنی خوبصورت۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصاویر، خلفاء کی تصاویر نہایت ہی عمدہ رنگ میں دے کر اور بہت بڑے بڑے پوسٹرز کی صورت میں اخبارات میں احمدیت کے متعلق یہ اعلانات شائع ہوئے اور پھر ریڈیو نے بھی وہ باتیں سنائیں دنیا کو اور ٹیلی ویژن نے بھی بلکہ پورا پیغام جو میں نے دیا تھا وہ بھی پڑھ کے سنایا۔تو یہ عجیب اللہ کی شان ہے کہ مباہلہ کا سال وہی مقرر فرمایا جو جماعت احمدیہ کا نئی صدی میں داخل ہونے کا سال تھا اور اس کے نتیجے میں محض تمام دنیا میں حیرت انگیز تائید کے کرشمے ہی نہیں دکھائے بلکہ اس کے نتیجے میں احمدیوں کو خاص طور پر اپنی حالت سدھارنے کی طرف متوجہ فرما دیا۔کیونکہ یہ احساس صدی کے اختتام کے ساتھ ساتھ احمدیوں میں بڑھتا چلا گیا کہ ہم نے اگلی صدی میں اپنی پہلی