سلسلہ احمدیہ — Page 414
414 میر پوری، ان کا آٹھ سالہ بیٹا اور خوشدامن موقع پر ہی ہلاک ہو گئے اور ان کی اہلیہ اور ایک چھوٹے بچے کو زخمی حالت میں ہسپتال جانا پڑا۔ممکن ہے مولوی میر پوری کے ہم خیال اس واقعہ کو بھی فقط حادثاتی موت قرار دیں۔مگر خدا تعالیٰ کی قہری تجلی کی پہلی چمکار کے بعد ایک اور واضح نشان رونما ہوا کہ جب مولانا کی تعزیت پر ان کے ہمنوا اور اقارب اس مکان پر جمع ہوئے جہاں ان کی میت رکھی تھی تو یکا یک کمرے کے فرش نے جواب دے دیا اور وہاں موجود مردوزن اور بچے دھڑام سے نیچے نہ خانہ میں جا گرے۔اس حادثہ میں مولانا کی بیوی دوبارہ زخمی ہو گئیں جو ہسپتال سے محض جنازے کی خاطر گھر آئی تھیں۔دوبارہ پھر ہسپتال جاپڑیں۔مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو بر متکلم کا انگریزی اخبار Daily News،12 اکتوبر 1988ء)۔۔۔۔۔۔۔کوڈ یا تھور ( کیرلہ ) میں مسائلہ یا سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کی خاص اجازت سے کوڈ یا تھور ( کیرلہ ) میں انجمن اشاعت اسلام اور جماعت احمدیہ کے مابین مورخہ 28 رمئی 1989ء کو شام کے پانچ بجے ایک مباہلہ ہوا۔ہر دو جماعتوں میں چالیس چالیس افراد اس مباہلہ میں شریک ہوئے۔انجمن اشاعت اسلام، جماعت اسلامی، اہل حدیث تبلیغی جماعت کا مرکب تھا۔دس ہزار افراد دعائے مباہلہ کا نظارہ کرنے کے لئے جمع ہوئے تھے۔کو ڈیا تھور میں منعقدہ اس دعائے مباہلہ کا موضوع مقام نبوت' تھا۔سب سے پہلے احمد یہ مسلم جماعت کی طرف سے کیرلہ احد یہ مسلم جماعت کے چیف مشنری مولوی محمد ابو الوفا صاحب نے مندرجہ ذیل دعا کی: ”ہمارا یہ ایمان ہے کہ جس کا ہم اعلان کرتے ہیں کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسلمانوں کے لئے وعدہ کیے گئے مسیح و مہدی اور مسیح ابن مریم ہیں۔آپ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے متبع اور غیر تشریعی انتی نبی رسول ہیں۔اے قادر مطلق خدا! اگر ہم اپنے ایمان اور دعویٰ میں جھوٹے ہیں تو ہم پر سخت عذاب نازل فرما۔اگر ہم بچے ہیں تو ہم پر اپنا فضل نازل فرما۔اس وقت تمام احمد یوں نے