سلسلہ احمدیہ — Page 413
413 صرف اسی پر بس نہیں مولانا میر پوری صاحب نے مباہلہ 10 جون 1988ء کے جواب میں ایک مضمون بعنوان ”قادیانیوں کی طرف سے مباہلہ کا چیلنج“ لکھا اور اس میں بعض ایسے الفاظ بھی تحریر کر ڈالے جو خدا تعالیٰ کے غیظ و غضب کو بھڑ کانے والے اور مباہلہ جیسے قرآنی طریق فیصلہ کی کھلی بے ادبی کرنے والے الفاظ تھے۔چنانچہ انہوں نے لکھا:۔نے چیلنج اور دعوے محض چکر اور فراڈ ہیں۔مسلمانوں کو چاہیے کہ انہیں ذرہ برابر اہمیت نہ دیں۔“ ( صراط مستقیم جولائی 1988، صفحہ 9) اسی اخبار کے ذریعہ انہوں نے قادیانیوں کی موجودہ ہم کو شر انگیز قرار دیتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ ان کے اس پراپیگینڈے سے متاثر نہ ہوں اور ان کا بائیکاٹ جاری رکھیں“ ابھی مولانا کے اس مضمون پر ایک ماہ بھی نہ گزرنے پایا تھا کہ خدا تعالیٰ نے صداقتِ احمدیت کے اظہار کے لئے ایک زور دار نشان دکھایا اور دشمن احمدیت جنرل ضیاء الحق ایک عبرتناک موت کا شکار ہو گئے۔مگر افسوس کہ مولانا محمود میر پوری نے اس سے سبق نہ لیا بلکہ الٹا یہ بیان بازی شروع کر دی کہ :۔قادیانیوں نے شاہ فیصل اور بھٹو کی موت کو بھی اپنی بددعاؤں کا نتیجہ قرار دیا تھا۔جنرل ضیاء کی موت کو مباہلہ کا چیلنج قرار دینا مضحکہ خیز ہے۔۔۔فیصلے کا معیار یہ حادثاتی موتیں نہیں ہیں بلکہ اس مسئلہ کا فیصلہ تو 1908ء میں ہو چکا ہے۔66 روزنامه ملت اندن 7 ستمبر 1988ء) ان تحریرات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مولانا محمود میر پوری صاحب شوخی شرارت اور بے باکی میں شرافت کی تمام حدیں پھلانگ چکے تھے۔لہذا آیت مباہلہ کی شرائط کے مطابق اللہ تعالی کی لعنت نے ان کا پیچھا اسی طرح کیا جس طرح انہوں نے قرآنی آیت کے مقابلہ پر گستاخی دکھائی تھی اور وہ اللہ تعالیٰ کی قہری تحلیلی کا نشانہ بن گئے۔10 اکتوبر 1988ء کو جب مولانا میر پوری بمعہ افراد خاندان نیوکاسل (Newcastle) سے واپس آرہے تھے تو راستہ میں اچانک ان کی کارجام (jam) ہو گئی اور پیچھے سے آنے والا تیز رفتار ٹرک ان کی کار کے اوپر چڑھ گی اور نانا نا پانچ کاریں آپس میں متصادم ہو گئیں۔جس کے نتیجہ میں مولوی محمود