سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 376 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 376

376 مباہلہ کے چیلنج پر مولویوں کارڈ عمل مباہلہ کے اس چیلنج کے بعد دنیا بھر میں مختلف معاندین کی طرف سے کئی قسم کے تبصرے اخبارات و رسائل میں شائع ہوئے۔بعض نے مباہلہ کے چیلنج کو قبول کرنے سے گریز کے لئے عجیب و غریب حذر تراشے اور بعض نے اپنے اپنے رنگ میں یہ اعلان کئے کہ مباہلہ منظور ہے لیکن تفصیلی بیان میں بعض اپنی عبارتیں داخل کر دیں جن کی رو سے وہ بعد میں یہ کہ سکیں کہ ہم نے مباہلہ منظور تو کیا تھا مگر فلاں شرط کے ساتھ کیا تھا اور چونکہ یہ شرط پوری نہیں کی گئی اس لئے مباہلہ بھی نہیں ہوا۔چنانچہ مختلف قسم کے تبصرے اخبارات و اشتہارات میں شائع ہوتے رہے۔اُن میں سے بعض نے یہ کہا کہ فلاں میدان میں پہنچو، کوئی کہتا فلاں میدان میں پہنچو، کوئی کہتا مسجد نبوی میں داخل ہو کے مباہلہ کرو اور مسجد نبوی کے متعلق پھر خود ہی فتویٰ دیتا کہ بعض کے نزدیک کافر کو وہاں آنے کی اجازت نہیں ہے لیکن بعض فقہاء نے بعض مجبوریوں کی خاطر کافروں کو اندر آنے کی اجازت دے دی ہے۔جبکہ قرآن کریم صرف یہ فرماتا ہے ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ کہ ہم پھر ابتہال کریں اور ابتہال کے بعد اللہ تعالیٰ کی لعنت جھوٹے پر ڈالیں۔اب جھوٹے پر خدا کی لعنت ڈالنے میں کون سے مقام کی ضرورت ہے؟ کون سے ملک یا کسی خاص صوبے، علاقے یا شہر کی ضرورت ہے؟ سارے قرآن میں اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جن کو مباہلے کا چیلنج دے رہے تھے ان کے بیوی بچے، مرد، عورتیں بڑے چھوٹے سارے اس جگہ سے بہت دُور تھے اور ہر گز یہ مقصود نہیں تھا کہ پہلے ان سب کو یہاں لے کے آؤ پھر مباہلہ قبول ہوگا۔لیکن اکثر علماء نے انتہال کا مطلب گالیاں دینا سمجھ رکھا ہے۔چنانچہ مباہلے کے اس چیلنج کے جواب میں معاند مولویوں کی طرف سے جماعت کے خلاف نہایت ہی گندے، لغو اور بیہودہ اعتراضات پر مشتمل رسالے شائع کر کے لوگوں میں شدید اشتعال پھیلایا گیا۔شاید ان کے نزدیک انتہال کا معنی اشتعال ہے۔بہت سی جگہوں پر مباہلہ کا چیلنج تقسیم کرنے والے احمدیوں کو یہ کہ کراذیتیں دی گئیں اور قید میں ڈالا گیا اور ان پر کئی قسم کے مقدمے کھڑے کئے گئے کہ انہوں نے اس چیلنج مباہلہ کے ذریعہ