سلسلہ احمدیہ — Page 373
373 سلف صالحین کو اعتقادی اور عملی طور پر اجماع تھا۔اور وہ امور جو اہل سنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں ان سب کا ماننا فرض ہے۔اور ہم آسمان اور زمین کو اس بات پر گواہ کرتے ہیں کہ یہی ہمارا مذہب ہے۔“ ( ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 523) میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے ( ہزار ہزار درود اور سلام اس پر ) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے، اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔وہ تو حید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے وہ انسان نہیں بلکہ ذریت شیطان ہے۔کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کیا گیا ہے۔جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتاوہ محروم ازلی ہے۔ہم کیا چیز اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ہم کا فررحمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اسی نبی کے ذریعہ سے پانی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اس کا میل نہی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 118، 119 ) یہ ہے جماعت احمدیہ کا عقیدہ اور مذہب اور یہ ہے حضرت بانی کا وہ مقام جو اُن کا اصلی اور حقیقی مقام ہے۔جو شخص بھی اس کے سوا کسی اور مذہب کو جماعت احمدیہ کی طرف منسوب کرنے کی جسارت کرتا ہے وہ سراسر ظلم اور افتراء سے کام لیتا ہے۔اور میں بحیثیت امام جماعت احمدیہ یہ دعوت دیتا ہوں کہ اگر کوئی شخص مذکورہ بالا عبارات پڑھنے کے بعد بھی اپنے