سلسلہ احمدیہ — Page 357
357 نور افشانی کرے گا اور اس ضیا پاشی کو اب کوئی روک نہیں سکے گا اور یہ ایک ایسا مصفا چشمہ ہے جو چینی عوام کے قلوب کو سیراب کرے گا اور ہر ایک ایسی روح کو جو خشک ہو کر مرجھا چکی ہوگی، دوبارہ تروتازہ کر دے گا۔امر واقعہ یہی ہے کہ آج کا نوجوان جس روحانی تشنگی اور بھوک کا شکار ہے وہ اب نا قابل برداشت ہو چکی ہے اور جب بیابان میں سفر کرتے ہوئے اچانک مصفا پانی مل جائے تو اس دم حاصل ہونے والی مسرت کا اظہار بھی مشکل ہوتا ہے۔میرے والد نے مجھے خط میں یوں لکھا ہے میں اس وقت پریشان ہوں تم میری طرف سے میرے محترم روحانی بھائی عثمان کو سلام پہنچا دو۔ان کا لٹریچر بادل کی اس گرج کی مانند ہے جس نے سارے چین کولرزہ بر اندام کر دیا ہے اور یہ قلوب کے لئے ایک ایسی تیز ہوا کی طرح ہے جو پانی میں لہریں پیدا کر دیتی ہے۔آپ کا قرآن کریم سے متعلق جو وسیع علم ہے اور پھر اس کے بیان میں جو سلاست ہے وہ آج کے دور میں مفقود نظر آتی ہے۔اس لئے دراصل آپ نے ہمیں محض کتابیں ہی ارسال نہیں کی ہیں۔۔۔اس پر ہم پدر و پسر کس طرح اپنے رب کا شکر یہ ادا کریں اور کس طرح آپ کے بھی مشکور ہوں۔خدا کی تقدیر نہایت عجیب ہے، گو ہمارے درمیان فاصلہ طویل ہے لیکن ہمارے دل بہت قریب ہیں محض اس لئے کہ ہم ایک خدائے عظیم پر ایمان رکھتے ہیں۔امید ہے کہ ہم خدا کی راہ میں مزید قربت حاصل کریں گے۔آپ رضائے باری تعالیٰ کی خاطر میری روحانی نشو ونما کریں، امداد کا ہاتھ پھیلائیں تا کہ میں اسلام کا ایک مضبوط سپاہی بن جاؤں اور اپنے خون جگر سے چھینی بھائیوں میں روحانی بیداری پیدا کرسکوں۔“ Kung Ming شہر کی مسلم ایسوسی ایشن کے ایک سیکرٹری نے مکرم محمد عثمان چو صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: