سلسلہ احمدیہ — Page 351
351 سولہویں صدی کی ابتدا میں حاجی بر لاس کی اولاد میں سے مرزا ہادی بیگ نے ہندوستان ہجرت کی اور صوبہ پنجاب میں دریائے بیاس کے پاس ایک جگہ رہائش اختیار کی اور اس جگہ کا نام م سلام پور رکھا۔بعد ازاں انہیں قاضی کا عہدہ ملنے کے بعد اس جگہ کا نام اسلام پور قاضی تبدیل ہو گیا جسے بعد میں مقامی لوگوں نے صرف قاضی“ کے نام سے شہرت دی اور پھر یہ تلفظ بگڑتے بگڑتے ”قادیان“ بن گیا۔میرے دادا مرزا غلام احمد صاحب، میرے والد مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اور میں اسی جگہ پیدا ہوئے۔بنی نوع انسان سے محبت کرنا اسلام کی بنیادی تعلیم ہے۔اسی لئے مومن بنی نوع انسان سے پیار کرتے ہیں اور میں اسی محبت کی وجہ سے سالہا سال سے اس جدو جہد میں مصروف ہوں کہ دنیا کی ہر قوم تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے ان سے رابطہ کیا جائے ، یعنی وہی اسلام جس پر میں خود ایمان رکھتا ہوں اور اس پر عمل پیرا ہوں۔میرے عزیز بھائیو اور بہنو! آپ جو ملک چین میں رہتے ہیں۔بعض وجوہات کی بناء پر آپ تک ذاتی رابطہ کے ذریعہ میں ان مذہبی حقائق کو نہیں پہنچا سکا جو میرے علم میں تھے لیکن حدیث نبوی ہے حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيمَان یعنی وطن کے ساتھ محبت ایمان کا حصہ ہے، چنانچہ آپ کے لئے میرے دل میں جو محبت کے جذبات ہیں وہ مجھے ان فرائض کو نہ صرف فراموش نہیں ہونے دیتے بلکہ اس فرض کی ادائیگی میں دیر ہونے کی وجہ سے غم و فکر میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھے یہ پیغام پہنچانے کا موقع میسر آگیا ہے۔میرا دل مطمئن ہے اور اس کے لئے میں خدا تعالی کا شکر بجالاتا ہوں کہ اس نے مجھے یہ نہایت اہم موقع عطا فرمایا۔دوسرے میں امید رکھتا ہوں کہ میرے آباء واجداد کے ملک سے تعلق رکھنے والے میرے بہن بھائی میرے جذبات محبت کو نظر انداز نہیں کریں گے بلکہ خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول اور اس کی محبت کو پانے کی خاطر ، تا وہ دونوں جہانوں کی ترقیات اور برکات سے حصہ پاویں، میرے اس پیغام کو سنجیدگی اور غیر جانبداری اور تحقیقی نگاہ سے دیکھیں گے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو غور و فکر کے ساتھ ان باتوں پر توجہ دینے اور صراط مستقیم پر