سلسلہ احمدیہ — Page 331
331 ہوتا ہے۔قرآن کریم کی اوّل بھی دعا پر ہے اور انتہا بھی دعا پر۔دنیا میں کوئی نبی نہیں آیا جس نے دعا کی تعلیم نہیں دی اور انبیاء علیہم السلام کی زندگی کی جڑ اور ان کی کامیابیوں کا اصل اور سچا ذ ریعہ دعا ہی تھی اور یہی ایک عظیم الشان حربہ ہے جو اس آخری زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو فتوحات کے لئے عطا ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: دار گر مردے زندہ ہو سکتے ہیں تو دعاؤں سے اور اگر اسیر رہائی پاسکتے ہیں تو دعاؤں سے اور اگر گندے پاک ہو سکتے ہیں تو دعاؤں سے۔“ پس آپ اپنی ایمانی اور عملی طاقتوں کو بڑھانے کے لئے دعاؤں میں لگے رہیں اور یوں سمجھیں کہ آپ دعاؤں کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور یہ دعائیں ہی ہیں جو آپ کے کام سنوار دیں گی۔“ With Love to the Muslims of the World- The Ahmadiyya Perspective 1990ء میں آذربائیجان کی Council of the Unionwide Voluntary Trade Union Sports Federation کی دعوت پر مسلم ٹائیگرز احمدیہ (MTA) با کی ٹیم یو کے نے BAKU آذربائیجان کا دورہ کیا اور ہاکی کے میچز کھیلے۔بعد میں وہاں کی ٹیم یو کے آئی اور ایم ٹی اے ہاکی کلب کے ساتھ میچز کھیلے۔اس موقع پر حضرت خلیفۃ ابیح الرابع رحمہ اللہ نے آذربائیجان کی قوم کو مخاطب کر کے اور اسی طرح سابقہ USSR کے افراد کو پیش نظر رکھ کر یہ پیغام تحریر فرمایا جس کا رشین میں بھی ترجمہ کیا گیا۔یہ پیغام ایک عالمی حیثیت رکھتا ہے۔اس میں جماعت احمدیہ کا تعارف۔جماعت کے مخالفین کے سوالات و اعتراضات کے جوابات مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض وغایت۔جماعت احمدیہ کے عقائد۔جماعت احمدیہ کی مخالفت۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت اور جماعت احمدیہ مسلمہ کی امتیازی خصوصیات کا ذکر کیا گیا ہے۔اسی طرح حضرت مسیح ابن مریم کے حوالہ سے احمدیوں اور غیر احمدیوں میں فرق یعنی حیات و وفات مسیح کے موضوع پر بات کی گئی ہے۔اور مسیح موعود کے کاموں