سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 319 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 319

319 میں خطاب نہیں کیا۔پروفیسر صاحب نے پہلے تو اس تجویز کو قبول نہ کیا کیونکہ ان کے خیال میں یونیورسٹی کے طلبا مذہب میں بہت کم دلچسپی رکھتے تھے۔در حقیقت ان میں سے اکثر دہر یہ ہونے میں فخر محسوس کرتے تھے اور کسی بھی مذہب کے لیے ان کے دل میں کوئی خاص احترام نہ تھا۔تاہم چند دنوں کے بعد پروفیسر صاحب نے خود مسعود صاحب کو یہ تجویز دی کہ عنوان کچھ اس طرح بنایا جائے کہ عقلیت پسندی اس میں بنیادی موضوع ہو۔موازنہ کی خاطر وحی و الہام کو بھی اس میں شامل کیا جا سکتا ہے تا کہ یہ بتایا جا سکے کہ حقیقی علم اور ابدی صداقتوں تک لے جانے میں دونوں کا الگ الگ کیا کردار ہے۔اُن کا خیال تھا کہ شاید اس قسم کے موضوع میں طلبا دلچسپی لیں۔حضور رحمہ اللہ نے اس تجویز کو قبول فرمایا اور اپنی معمول کی دیگر تمام مصروفیات کے ساتھ ساتھ صرف ایک ہفتہ کے اندر A4 سائز کے قریبا ایک سو پچیس صفحات پر مشتمل ایک مضمون اردو زبان میں Dictate کروایا۔جب یہ مضمون تیار ہو گیا تو جرمن زبان میں ترجمہ کی غرض سے مکرم شیخ ناصر احمد صاحب کو سوئٹزرلینڈ بھجوایا گیا۔لیکن لیکچر کے لئے وقت چونکہ محدود تھا اور یہ ممکن نہ تھا کہ اس سارے مضمون کا ترجمہ اس مختصر اور محدود وقت میں سنایا جا سکتا اس لئے انہوں نے حضور رحمہ اللہ کی اجازت سے اردو میں تحریر فرمودہ اس مضمون کا خلاصہ جرمن زبان میں تیار کیا۔14 جون 1987ء بروز جمعرات رات آٹھ بج کر پندرہ منٹ پر , Rationality Revelation, Knowledge, Eternal Truth یعنی عقل، الہام علم اور ابدی صداقت کے موضوع پر مجوزہ لیکچر کا یونیورسٹی کے Oule آڈیٹوریم میں اہتمام کیا گیا۔طلبا اس موضوع کو سن کر کھنچے چلے آئے اور Oule آڈیٹوریم کی تمام نشستیں پر ہوگئیں یہاں تک کہ ایک دوسرے ہال میں ٹیلی ویژن سکرینز اور لاؤڈ سپیکر کے اضافی انتظامات کے ذریعہ پروگرام دکھانا پڑا۔یہ وہی آڈیٹوریم تھا جہاں سر ونسٹن چرچل نے 9 ستمبر 1946ء کو "Let Europe Arise" کے موضوع پر تاریخی خطاب کیا۔حضور رحمہ اللہ کے ابتدائی تعارفی کلمات کے بعد جو آپ نے انگریزی میں فرمائے مکرم شیخ ناصر احمد