سلسلہ احمدیہ — Page 312
312 که رمق الباطل کی تصویر نگاہوں کے سامنے آگئی۔معترضین کی کمر ٹوٹ گئی اور متلاشیان حق پر اتمام حجت ہو گئی۔آپ نے مخالفین کی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہوئے فرمایا: در تم کہ رہے ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں ہم اس لیے ضبط کر رہے ہیں کہ ان سے مسلمان عوام خصوصاً پاکستانی عوام کی دل آزاری ہوتی ہے اور اس دل آزاری کا علاج یہ کیا کہ وہ حصے جن سے دل آزاری نہیں ہوتی ان کا شائع کرنا تو قانونا بند کر دیا اور جن سے تمہارے زعم میں دل آزاری ہوتی ہے ان کو گورنمنٹ کے خرچ پر بصرف کثیر ساری دنیا میں پھیلا رہے ہو۔پس بظاہر تو یہ ایک تضاد ہے لیکن یہ تضاد ایک چالا کی کے نتیجہ میں ہے۔انہوں نے ایک ظالمانہ اور ناپاک حملہ کرنا ہی تھا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب میں اعتراضات کے جوابات موجود ہیں۔۔۔ایک طرف تو لکھتے ہیں کہ گزشتہ قومی اسمبلی کا واقعی یہ بڑا کارنامہ ہے لیکن باوجود اس کے وہ قومی اسمبلی ان کو dissolve کرنی پڑی اور اس پر یہ الزام لگایا گیا کہ اس کے سارے ممبران ( الا ماشاء اللہ ) گندے اور بدکار تھے۔" ( خطبہ 25 جنوری 1985ء زحق الباطل) اس طرح حضور رحمہ اللہ اس کا تضاد واضح کرتے ہیں اور ایک ایک اعتراض کو لے کر اس کا مسکت جواب دیتے ہیں۔ذیل میں صرف ان خطبات کے عناوین درج کیے جاتے ہیں۔(1) کذب و افتراء کی دل آزار مہم اور اس کا پس منظر (2) خود کاشتہ پودا۔تاریخی واقعات کے آئینے میں (3) ہندوستان میں انگریزوں کے مفادات اور ان کے اصل محافظ (4) اسلام کا نظریہ جہاد اور جماعت احمدیہ (5) مسلمانان ہندوستان کا قومی تحفظ اور جماعت احمدیہ