سلسلہ احمدیہ — Page 303
303 اسلامی اصول کی فلاسفی 1896ء میں ایک صاحب سوامی سادھو شموگن چندر صاحب نے لاہور میں ایک مذہبی کا نفرنس یا جلسہ اعظم مذاہب کے انعقاد کا اہتمام کیا اور اس میں شمولیت کے لیے مختلف مذاہب کے نمائندوں کو دعوت دی۔ماہ دسمبر 1896ء کے آخر پر یہ کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے کمیٹی جلسہ کی طرف سے اعلان کردہ پانچ سوالوں پر تقریریں کیں جو کمیٹی کی طرف سے بغرض جوابات پہلے شائع کر دیئے گئے تھے۔اور ان کے جوابات کے لیے کمیٹی کی طرف سے یہ شرط لگائی گئی تھی کہ تقریر کرنے والا اپنے بیان کو حتی الامکان اس کتاب تک محدود رکھے جس کو وہ مذہبی طور سے مقدس مان چکا ہے۔سوالات یہ تھے۔1۔انسان کی جسمانی ، اخلاقی اور روحانی حالتیں 2۔انسان کی زندگی کے بعد کی حالت یعنی معظمیٰ 3۔دنیا میں انسان کی ہستی کی اصل غرض کیا ہے اور وہ غرض کس طرح پوری ہو سکتی ہے؟ 4 کرم یعنی اعمال کا اثر دنیا اور عاقبت میں کیا ہوتا ہے؟ 5 علم یعنی گیان اور معرفت کے ذرائع کیا کیا ہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کانفرنس کے لیے ایک مضمون تحریر فرمایا جسے حضور علیہ السلام کی موجودگی میں آپ کے ایک خادم مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے پڑھ کر سنایا۔حضور علیہ السلام نے جلسہ کے انعقاد سے قبل 21 دسمبر 1896ء کو اپنے مضمون کے غالب آنے سے متعلق اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر ایک اشتہار شائع کیا جس میں آپ نے تحریر فرمایا کہ جلسه اعظم مذاہب جو لاہور ٹاؤن ہال میں 26 ، 27، 28 دسمبر 1896ء کو ہوگا۔اُس میں اس عاجز کا ایک مضمون قرآن شریف کے کمالات اور معجزات کے بارہ میں پڑھا جائے گا۔یہ وہ مضمون ہے جو انسانی طاقتوں سے برتر اور خدا کے نشانوں میں سے ایک نشان اور خاص اُس کی تائید سے لکھا گیا ہے۔اس میں قرآن شریف کے وہ حقائق اور معارف درج ہیں جن سے آفتاب کی طرح روشن