سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 291 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 291

291 تحریرات اور ملفوظات ان علوم کی فراوانی سے لبریز ہو کر چھلک رہے ہیں اور انہی آسمانی علوم سے سیراب ہو کر ذہنوں کو وہ چلا ملی ہے جو خلفائے احمدیت کے تراجم اور تغیر قرآن کریم میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔تاہم ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است حضرت خلیفہ امسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے ترجمہ و تفسیر کا رنگ الگ ہے اور حضرت مصلح موعود خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ترجمہ وتفسیر کی شان الگ ہے جو حضور کی معرکتہ الآراء اور شاہکار تفسیر صغیر اور تفسیر کبیر میں نمایاں ہے۔اسی طرح حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ کے تفسیری نکات ایک منظر در تنگ رکھتے ہیں۔حضرت مرزا طاہر احمد خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کا یہ اردو ترجمہ قرآن کریم حضور رحمہ اللہ کے وسیع مطالعہ، غور وفکر اور سالہا سال کی شب و روز کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔اس ترجمہ میں بہت سے مشکل مقامات ایسے تھے جن کے حل کے لئے حضور رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ سے خاص طور پر رہنمائی چاہی اور اللہ تعالی نے محض اپنے فضل سے حضور کو ایسے معانی سمجھائے جن سے وہ مشکل مقامات حل ہو گئے۔ی ترجمه آسان ، سلیس اور عام فہم ہونے کے باوجود اپنے اندر ایک ندرت رکھتا ہے۔اس ترجمہ میں اس بات کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے کہ یہ ترجمہ قرآن کریم کے متن کے بالکل مطابق ہو اور کسی صورت میں بھی یہ متن سے تجاوز نہ کرے۔اس سلسلہ میں اتنی احتیاط برتی گئی ہے کہ اگر متن کے الفاظ کا اردو ترجمہ کرنے سے مفہوم واضح نہ ہوتا ہو تو ترجمہ کے ابلاغ اور سلاست کے لئے جو وضاحتی الفاظ ترجمہ میں شامل کئے گئے ہیں انہیں قرآن کریم کے تقدس کے پیش نظر بریکٹ میں رکھا گیا ہے تا کہ پڑھنے والے پر یہ امر واضح رہے کہ یہ اصل عربی متن کا ترجمہ نہیں بلکہ مترجم کے وضاحتی الفاظ ہیں۔اس لحاظ سے یہ ایک قسم کا لفظی ترجمہ ہے لیکن اس کے باوجود رواں سلیس اور اردو زبان کے رائج الوقت محاورہ کے بھی عین مطابق۔اس ترجمہ میں جن مقامات پر قرآن کریم کے عربی الفاظ کا ترجمہ رائج اور معروف تراجم سے ہٹ کر کیا گیا ہے وہاں اختیار کردہ ترجمہ کی سند کے طور پر حاشیہ میں عربی لغات اور دیگر کتب کا حوالہ دیا گیا ہے۔یہ ترجمہ ایک منفرد اسلوب رکھتا ہے۔علوم جدیدہ کے انکشافات کی روشنی میں اس دائمی کتاب کے