سلسلہ احمدیہ — Page 274
274 سوچ بھی نہیں سکتی لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ بعض لڑکوں کو جامعہ میں چوری کے نتیجے میں وقف سے فارغ کیا گیا ہے۔کسی کو جھوٹ کے نتیجے میں وقف سے خارج کیا گیا ہے۔اب یہ باتیں ایسی ہیں جن کے متعلق یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اچھے نیک ، صالح احمدی میں پائی جائیں کجا یہ کہ وہ واقفین زندگی میں پائی جائیں لیکن معلوم یہی ہوتا ہے کہ والدین نے پیش تو کر دیا لیکن تربیت کی طرف توجہ نہ کی یا اتنی دیر کے بعد اُن کو وقف کا خیال آیا کہ اس وقت تربیت کا وقت باقی نہیں رہا تھا۔بعض والدین سے تو یہ بھی پتہ چلا کہ انہوں نے اس وجہ سے بچہ وقف کیا تھا کہ عادتیں بہت بگڑی ہوئی تھیں اور وہ سمجھتے تھے کہ اس طرح تو ٹھیک نہیں ہوتا ، وقف کر دو تو آپ ہی جا کر جماعت سنبھال لے گی اور ٹھیک کرے گی۔“ اسی طرح ایک موقع پر فرمایا: خطبہ جمعہ فرمودہ 10 فروری 1989ء۔خطبات طاہر جلد 8 صفحہ 85-86) جہاں تک اولادوں کے وقف کا تعلق ہے اس ضمن میں ابھی اس شان کی قربانی پیدا نہیں ہوئی تھی کیونکہ مختلف اوقات میں جب وقف کے لئے زور دیا جاتا رہا تو جماعت اپنے جگر گوشے پیش کرتی رہی ہے لیکن درمیان میں بسا اوقات لمبے عرصے پڑ گئے، لمبے وقفے حائل ہو گئے کہ جب خلیفہ وقت نے وقف کی طرف توجہ نہیں دلائی اس لئے جماعت بھی اس معاملے میں خاموش ہو گئی۔چنانچہ آئندہ کی ضرورتوں کے پیش نظر میں نے یہ تحریک کی کہ اپنے بچوں کو ، اپنی آئندہ نسلوں کو وقف کرو۔اگلی صدی میں ہمارے کام بہت کثرت سے پھیلنے والے ہیں۔ان کے اندازے ابھی سے کچھ ہونے شروع ہو گئے ہیں۔بالکل نئے نئے ممالک کی فتح کے اللہ تعالی سامان پیدا فرما رہا ہے، نئی نئی قوموں میں جماعت کو داخل کر رہا ہے اور خود بخود ہورہا ہے، ہماری کوششوں سے بعض دفعہ تعلق نظر آتا ہے بعض دفعہ کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔۔۔۔خدا تعالی کی طرف سے ایک سازگار ہوا چلائی جارہی ہے، کچھ پھل ہیں جو پکائے جا رہے ہیں۔اس لئے کہ جماعت ترقی کے بالکل نئے دور میں داخل ہونے والی ہے۔