سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 265 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 265

265 بنایا گیا۔اس علاقہ میں گورنمنٹ کی طرف سے پہلے چار ہینڈ پمپ لگوائے گئے تھے جو سب کے سب ناکام ہو چکے تھے۔کہیں پانی نہیں لکھتا تھا اور کہیں نمکین اور کھارا پانی لکھتا تھا۔چنانچہ جب ہم نے ہینڈ پمپ لگانے کا پروگرام بنایا تو ایک لمبی پر سوز دعا کے بعد ایک جگہ کا انتخاب کیا گیا۔مولوی بشیر احمد صاحب خادم جو اس موقع پر تشریف لے گئے تھے رات کو خواب میں بھی انہوں نے دیکھا کہ جو جگہ نلکا کے لئے منتخب کی گئی ہے وہاں سے نہایت شفاف اور میٹھا پانی نکلا ہے۔چنانچہ اسی جگہ پر بورنگ کروائی گئی۔جب دو سوفٹ تک پانی نہ نکلا تو ہمیں مایوسی ہونے لگی اور غیر مسلم و مخالفین احمدیت نے استہزاء کرنا شروع کر دیا اور یہ اعلان کرنا شروع کر دیا کہ یہ جماعت جھوٹی ہے۔ان کے پاس حرام کا پیسہ ہے تبھی یہاں پانی نہیں نکلا۔“ سعید صاحب بتاتے ہیں ایک طرف ان کی یہ باتیں تھیں۔دوسری طرف ہم سب دعاؤں میں لگے ہوئے تھے کہ اچانک جب بورنگ 220 فٹ تک پہنچی تو نہایت صاف اور میٹھا پانی نکلنا شروع ہو گیا اور تمام استہزاء کرنے والے مخالفین شرمندہ ہو گئے۔جہاں اللہ تعالیٰ نے مخالفین کے منہ بند کر دیے وہاں ہمارے اس سنٹر کے تمام افراد کے دل میں احمدیت کی صداقت گھر کر گئی۔مکرم سید سعید احمد صاحب اپنے خط محررہ 21 دسمبر 1987ء میں لکھتے ہیں کہ : علاقہ ارتداد کے ایک ساندھن نامی گاؤں کے چند کھیتوں میں آگ لگ گئی۔انہی کھیتوں کے درمیان ہمارے ایک ٹو احمدی کا بھی کھیت تھا۔اس کے ارد گرد کے تمام کھیت جل کر راکھ کا ھیر بن گئے لیکن احمدی کا کھیت اور اس کی فصل آگ سے بالکل محفوظ رہی۔آگ اس کھیت کے قریب پہنچ کر ختم ہو گئی۔“ مکرم سید سعید احمد صاحب اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں کہ : علاقہ بیادر کے تھانے کا انچارج ہمارے سخت خلاف تھا اور اس نے ایک روز ہمیں بیادر چھوڑنے کا حکم دے دیا۔اللہ تعالیٰ کی نصرت بڑے عجیب رنگ میں ظاہر ہوئی کہ اس حکم دینے