سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 241 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 241

241 Kasongo کے بعض نوجوان تنزانیہ کے شہر Kianga تعلیم حاصل کرنے گئے جہاں انہیں احمدیت کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں۔مکرم اور لیس Kapaya صاحب نے حسن Mwiny Sefu کو مخالفت کے پیش نظر کھلے عام تبلیغ کرنے سے منع کیا لیکن حسن MwinySefu نے احمدیت کا پیغام دوسروں کو دینا شروع کیا۔یہاں تک کہ سنی مسلمانوں نے 1986ء میں حسن winy Sefu سے مناظرہ کرنے کے لئے ایک وفد Karomo بھجوایا۔اس مناظرے میں احمدیت کی فتح ہوئی اور اس کے بعد مزید بیعتیں ہوئیں۔مکرم حسن Mwiny Sefu صاحب نے اپنے خرچ پر جماعت کے متعلق مزید معلومات لینے کی خاطر تنزانیہ کا سفر کیا۔اس طرح جب انہیں کنشاسا میں امیر جماعت کے آنے کی اطلاع ملی تو کنشاسا کا سفر کیا اور مولانا صدیق احمد منور صاحب سے ملے۔یہ بات اہم ہے کہ karomo سے کنشاسا کا سفر آج بھی آسان نہیں ہے اور اُس زمانے میں بھی مشکل تھا۔دو ہزار کلومیٹر دور سے کنٹا سا آنا آسان کام نہیں تھا۔اس کے لئے ہمت کے علاوہ وسائل بھی درکار تھے۔اس خدا کے بندے نے ان اسفار کے لئے یہ رقم کیسے اکٹھی کی اور کتنی قربانی کی، یہ خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔بہر حال یہ غیر معمولی قربانی تھی۔کنشاسا سے واپس جا کر مکرم حسن MwinySefu نے تبلیغی سرگرمیاں مزید تیز کر دیں اور ان کی کوششوں کے نتیجے میں مزید دس گاؤں میں جماعت قائم ہوگئی۔1981ء میں کا نانگا کے علاقے میں احمدیوں کا جینا دوبھر کردیا گیا۔مخالفین نے یہ بات مشہور کر دی کہ احمدی خون پر لوگوں کی بیعت لیتے ہیں اور اپنے مرکز ربوہ بھجواتے ہیں۔جب حکومت کے دفتروں میں یہ بات گردش کرنے لگی تو کا نانگا کے اہم احمدی احباب کو گرفتار کر لیا گیا۔یہ احمدی جیل میں تو صرف چار دن رہے لیکن اس دوران میں ان پر تفتیش کے نام پر لرزہ خیز مظالم توڑے گئے۔عدالت میں بیعت فارم پیش کیا گیا اور جماعت کا تعارف کروایا گیا تو ان احباب کو چار دن بعد رہا کر دیا گیا۔یہ گرفتاریاں بعد میں بھی مختلف اوقات میں ہوتی رہیں۔مقامی احمدیوں کی طرف سے زائر میں مبلغ بھجوانے کی درخواستیں مرکز بھجوائی جارہی تھیں۔چنانچہ مختلف اوقات میں بعض مرکزی مبلغین کو زائر کا دورہ کرنے کی توفیق ملی۔