سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 2 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 2

2 مومنوں کے لئے تسکین اور راحت کے سامان فرمائے۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے 18 جون 1982ء کے خطبہ جمعہ میں اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ربوہ کی ایک ایک گلی گواہ ہے بڑے سے بڑا ابتلا جوممکن ہو سکتا تھا، تصور میں آسکتا تھا وہ آیا اور گزر گیا اور کوئی زخم نہیں پہنچا سکا جماعت کو اور انتہائی وفا کے ساتھ اور کامل صبر کے ساتھ جماعت اس عہد پر قائم رہی کہ ہم خلافتِ احمدیہ سے وابستہ رہیں گے اور اس کی خاطر اپنا سب کچھ لٹا دینے کے لئے تیار ہوں گے۔“ خطبہ جمعہ فرموده مؤرخہ 18 جون 1982ء بحوالہ خطبات طاہر جلد اول صفحہ 17 ) آپ نے یہ بشارت بھی دی کہ : یہ وہ آخری بڑے سے بڑا ابتل ممکن ہو سکتا تھا جو آیا اور جماعت بڑی کامیابی کے ساتھ اس امتحان سے گزرگئی اللہ تعالی کے فضلوں کے وارث بنے ہوئے۔اب آئندہ انشاء اللہ تعالی خلافت احمدیہ کو کبھی کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔جماعت بلوغت کے مقام پر پہنچ چکی ہے خدا کی نظر میں۔اور کوئی دشمن، آنکھ، کوئی دشمن دل، کوئی دشمن کوشش اس جماعت کا بال بھی بیکا نہیں کر سکے گی اور خلافت احمد یہ انشاء اللہ تعالی اسی شان کے ساتھ نشو نما پاتی رہے گی جس شان کے ساتھ اللہ تعالی نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدے فرماتے ہیں کہ کم از کم ایک ہزار سال تک یہ جماعت زندہ رہے گی۔) خطبه جمعه فرموده مؤرخہ 18 جون 1982ء بحوالہ خطبات طاہر جلد اول صفحہ 18 بلا شبہ حضور رحمہ اللہ کے کار ہائے نمایاں میں سے ایک عظیم الشان کارنامہ نظام خلافت کا استحکام بھی ہے۔آپ نے تیزی سے بڑھتی اور پھیلتی ہوئی عالمی جماعت کی اپنی متضرعانہ دعاؤں اور تدابیر حسنہ اور شب و روز کی محنت و جانسوزی سے ایسی عمدہ تربیت فرمائی کہ متفرق شعوب وقبائل اور مختلف رنگوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے مختلف زبانیں بولنے والے افراد کو خلافت حقہ اسلامیہ احمدیہ کے ساتھ اٹوٹ رشتوں میں باندھ کر امت واحدہ بنا دیا۔آپ کی وفات پر عالمی جماعت نے جس صبر و ثبات، نظم وضبط اور اتفاق و اتحاد کا بے نظیر نمونہ دکھایا اور بغیر کسی قسم کے ناخوشگوار واقعہ کے کامل صدق وصفاء