سلسلہ احمدیہ — Page 215
215 CIS میں روس کے بعد رقبہ کے لحاظ سے دوسرا بڑا ملک ہے۔تیل، گیس اور بہت سی معدنیات سے مالا مال ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے قازاخستان میں پہلے احمدی ہونے کا شرف مکرم المیس (Yelmes) صاحب کو حاصل ہے۔آپ گلاسگومشن کے ذریعہ 1991ء میں جماعت سے متعارف ہوئے۔گلاسگو مشن نے اس وقت ایک تقریب میں 80 کے قریب مہمانوں کو مدعو کیا جن میں زیادہ ترشین بولنے والے احباب تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کی رشین میں ترجمہ شدہ کتب اور سوال وجواب کی ویڈ یو دیکھ کر اورمعلومات کے بعد مکرم امسیس صاحب کو 1991ء میں ہی احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔تارخ قوم سے تعلق رکھنے والے یہ پہلے احمدی ہیں۔1992ء میں حضرت خلیفتہ اسیح الرابع " کی ہدایت پر مکرم منیر الدین شمس صاحب نے قازخستان کا دورہ کیا۔الما آتا میں بعض افراد جماعت اور دیگر تعلق رکھنے والوں سے ملاقاتیں کیں۔اسی طرح تازخستان کے مفتی مقیم الما آتا سے بھی ملاقات کی اور الما آتا کی مرکزی لائبریری کے لئے مختلف جماعتی کتب تحفہ پیش کیں۔1993ء میں مکرم چوہدری مقصودالرحمن صاحب نے حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحم اللہ کی تحریک پر بیک کہتے ہوئے واپڈا (پاکستان) میں 17 ویں گریڈ کی ریونیو آفیسر کی ملازمت چھوڑ کر اپنے آپ کو ایک سال کے لئے رشین ممالک میں خدمت کے لئے پیش کیا اور اکتوبر 1994ء میں الماتی قازخستان پہنچے۔جہاں انہیں تقریباً پانچ سال تک تاریخی خدمت کی توفیق ملی۔یونیورسٹی میں انگلش کے پروفیسر کے طور پر بھی خدمات بجالانے کے ساتھ ساتھ تعلیم القرآن" کے نام سے ایک رجسٹریشن کرا کر بھر پور تبلیغ بھی کرتے رہے۔الماتا میں عام لوگوں تک احمدیت کا پیغام آپ کے ذریعہ پہنچا ور متعدد افراد کو بیعت کی تو فیق ملی۔1994ء میں قازخستان کے قومی شاعر ” آبائے“ کے دفتر Abai House کی افتتاحی تقریب کے حوالہ سے ایک وفد قازاخستان سے ROLLAN SEISENBA JEW ( رُلان سنین بایو) کی قیادت میں لندن گیا۔جماعت انگلستان کی طرف سے انہیں تعارف کے لئے مسجد فضل میں دعوت دی گئی۔حضرت