سلسلہ احمدیہ — Page 201
201 مکرم مشہود احمد طور صاحب، مکرم سید نادر سیدین صاحب مرحوم، مکرم ڈاکٹر محمود السن صاحب نوری، مکرم ڈاکٹر امتیاز احمد صاحب، مکرم ڈاکٹر افتخار احمد صاحب شہید، مکرم چوہدری محمود احمد صاحب، مکرم منور سعید صاحب شامل ہیں۔ماہر اقتصادیات مکرم ڈاکٹر عبدالکریم صاحب نے ایک سال کی وقف عارضی پر سٹیٹ یونیورسٹی میں بطور پروفیسر خدمات سر انجام دیں۔مکرم سعادت احمد پراچہ صاحب مرحوم کو ایک ہوائی سفر کے دوران مکرم امان اللہ خان صاحب نائب وزیر خارجہ ازبکستان کو پیغام پہنچانے کی توفیق ملی جن کے ساتھ مکرم سید حسن طاہر بخاری صاحب مبلغ سلسلہ کا مسلسل رابطہ رہا اور انہیں جلسہ سالانہ یو کے میں شرکت کے ساتھ خلیفہ وقت کی ملاقات اور بیعت کی سعادت نصیب ہوئی۔مکرم ڈاکٹر فیصل راجہ صاحب نے اپنی تعلیم ازبکستان سے مکمل کی۔ان کی رشین نژاد احمدی بیوی کا تعلق بھی ازبکستان سے ہے۔1997ء۔1993 ء مکرم خالد ملک صاحب نے اقوام متحدہ کے ازبکستان میں نمائندہ کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔مقتدر حلقوں میں وہ احمدی مسلمان کے طور پر جانے جاتے تھے۔اپنے اعلیٰ اخلاق اور انتھک محنت کی بدولت انہوں نے صدر مملکت سمیت حکومتی حلقوں اور عوام میں بہت نیک نامی حاصل کی۔بعض بہت اہم مواقع پر انہیں بھی نمایاں خدمت کی توفیق ملی۔مکرم کلیم خاور صاحب مرحوم وہ خوش قسمت فرد ہیں جنہیں سب سے پہلے بطور مرکزی نمائندہ ازبکستان کا دورہ کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔اس دورہ کے نتیجہ میں بخارا سے اعلیٰ عہدیداران کا ایک وفد جلسہ سالانہ یوکے میں بھی شریک ہوا۔مکرم مولانا منیر الدین صاحب شمس کو بھی بطور مرکزی نمائندہ 1992 ء میں ازبکستان کا دورہ کرنے کی سعادت ملی۔اس دورہ کے دوران انہوں نے مختلف سرکاری افسران سے رابطوں کو ازسر نو زندہ کیا۔اس دور میں ازبکستان کے پہلے باقاعدہ مبلغ ہونے کا شرف مکرم مرزا نصیر احمد صاحب کو حاصل ہے۔آپ اس خدمت کے لئے 1992ء میں ازبکستان پہنچے اور مارچ 1993 ء تک خدمات بجا لاتے رہے۔اپنے مختصر قیام کے دوران آپ کو اس ملک میں دوبارہ جماعت کا پودا لگانے کی توفیق ملی۔