سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 182 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 182

182 سے ہماری پریشانیاں کافی بڑھ گئی تھیں کیوںکہ یہ رسالہ اس زمانہ میں کوسوو میں کافی پڑھا جا تا تھا۔اس کی ایک کاپی میں نے حضرت خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کو ملاقات کے دوران دی تھی۔بلکہ اس کا جواب بھی تیار کر کے رسالہ مذکورہ کو ارسال کیا تھا جس کو انہوں نے کبھی نہیں چھاپا۔سن 1987ء میں میں نے ایک بڑی وزنی type writing machine خریدی ، تا کہ اس کو لندن محترم زکریا خان صاحب کو ارسال کروں جو کہ جماعتی کتب کا البا نین زبان میں ترجمہ کیا کرتے تھے۔اس زمانہ میں ہمیں باقاعدہ بیعت کرنے اور اس کی اہمیت کا کوئی علم نہیں تھا۔میں اپنے آپ کو اپنے سوئٹزر لینڈ کے سب سے پہلے وزٹ پر ہی احمدی سمجھتا تھا۔بعد میں میری شادی ہوگئی اور 1989ء میں میری اہلیہ Sevide Rrustemi صاحبہ نے جلسہ سالانہ لندن پر بیعت کرنے کا اظہار کیا تو مجھے بھی کہا گیا کہ میرا بیعت فارم بھی کہیں ریکارڈ میں نہیں ہے۔لہذا میں نے بیعت فارم اسی سال اپنی اہلیہ کے ساتھ پر کیا۔جبکہ دل سے اور عمل سے بھی میں اس سے کئی سال قبل احمدی ہو چکا تھا۔میرے بھائی موسی رستمی صاحب میرے ذریعہ احمدی ہوئے۔جنہوں نے بعد میں اپنی زندگی خدمت دین کے لئے وقف کی اور انہیں ایک لمبا عرصہ جماعت احمدیہ کو سود کا صدر رہنے کی توفیق بھی ملی اور انہوں نے بطور معلم Kosovo میں خدمت کی توفیق پائی۔میں اکثر جماعت کا لٹریچر گھر پر لاتا تو موسیٰ صاحب ان کو پڑھا کرتے۔موسیٰ صاحب کی ایک حادثہ کے نتیجہ میں وفات ہوئی۔ری پبلک آف دی کونگو یا کونگو براز اویل (REPUBLIC OF THE CONGO) وسطی افریقہ کے ملک دی ری پبلک آف دی کونگو کو کونگو برازاویلا بھی کہا جاتا ہے۔برازاویل اس کا دار الحکومت ہے۔اس کے ہمسایہ ممالک میں گیون، کیمرون ، ری پبلک آف سینٹرل افریقہ اور ڈیموکریٹک ری پبلک آف دی کونگو شامل ہیں۔اس کی سرکاری زبان فرانسیسی ہے۔342,000 مربع کلومیٹر (132,047 /مربع میل) کے علاقہ پر محیط اس ملک کی آبادی قریبا 4۔3 ملین نفوس پر مشتمل ہے۔