سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 181 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 181

181 جنہوں نے کوسووو میں غالباً 1982ء میں جماعت سوئٹر لینڈ کے مبلغ محترم مشتاق باجوہ صاحب کا خیر مقدم کیا۔محترم باجوہ صاحب کا یہ دورہ اس لئے بھی شہرت پا گیا کیونکہ ان کو یوگوسلاویہ پولیس نے پکڑ لیا تھا اور بوسنیا کے Sarajevo شہر میں ایک نامعلوم اسلامی جماعت سے تعلق رکھنے کے سبب تین دن تک قید کر لیا تھا۔ڈاکٹر عیسی رستمی صاحب کہتے ہیں کہ میں نے 1984ء میں سوئٹزرلینڈ کی مسجد کی زیارت کی اور ایک ہفتہ وہاں مہمان کے طور پر قیام کی بھی توفیق پائی۔اس کے بعد غالباً 1985 ء میں خاکسار کے گاؤں کو کائے میں مخلص ڈینش احمدی Haji Noh Svend Hansen صاحب دس دن کے وقف عارضی پر تشریف لائے۔موصوف ہمارے ہی گھر پر ٹھہرے تھے۔ہم نے ان کے ساتھ وہاں جمعہ کی نماز بھی پڑھی۔جلسہ سالانہ یو کے 1985ء میں خاکسار ایک مختصر وفد کے ساتھ شامل ہوا اور چند دن حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی کی بابرکت صحبت میں رہنے کا موقع ملا۔جس سال حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے پاکستانی ڈکٹیٹر ضیاء الحق کو مباہلہ کا چیلنج دیا تھا، یعنی 1988ء میں اس سال بھی میں جلسہ پر گیا تھا، بلکہ جلسہ کے بعد حضور نے جس خطبہ جمعہ میں اس کی بلاکت کی برملا پیشگوئی کی تھی تو اس وقت میں بھی مسجد میں موجود تھا۔لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ میری ایمانی حالت ایسی نہیں تھی کہ حضور اقدس کے مقام کا صحیح اندازہ لگا سکتا۔چنانچہ میں سوچنے لگا کہ کیا اس قسم کی پیشگوئی کوئی جلد بازی تو نہیں۔لیکن اس کے معا بعد جب میں لندن سے واپس یوگوسلاویہ آ گیا تو چند ہی دنوں بعد میں ایک بس میں سفر کر رہا تھا۔اس وقت میں ملٹری میں شامل تھا۔بس کا ریڈیو بج رہا تھا کہ اچانک اس میں خبریں آئیں اور میں نے بس میں بیٹھے یہ حیران کن خبر سنی کہ جنرل ضیاء الحق اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ ہوائی جہاز کے گرنے سے جل کر راکھ ہو گیا۔میرے لئے یہ ایک نہایت ہی ایمان افروز واقعہ تھا۔سن 1986ء یا 1987ء میں مشہور اسلامی رسالہ نے جو کہ Sarajevo سے شائع ہوا کرتا تھا جس کا نام غالباً تقویم تھا، جماعت احمدیہ کے خلاف ایک کافی لمبا مضمون چھاپا۔اس مضمون کے چھپنے