سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 165 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 165

165 ہونے کا اعلان کر دیا۔لوگوں نے بہت مخالفت کی اور برا بھلا کہا کہ تم پاگل ہو گئے ہو۔یہ شیطانی خیالات ہیں۔مگر انہوں نے کسی کی پرواہ کئے بغیر اعلان کیا کہ میرے لئے مسیح زمان کی صداقت کا اس سے بڑھ کر اور کیا معجزہ ہوسکتا ہے۔1985ء تک وہاں 47 بالغ افراد کی جماعت قائم ہو چکی تھی۔جماعت کی تعداد مسلسل بڑھتی رہی۔ری پبلک آف موزمبیق (REPUBLIC OF MOZAMBIQUE) یہ ملک جنوب مشرقی افریقہ میں واقع ہے۔اس کے مشرق میں بحیرہ ہند، شمال میں تنزانیہ، شمال مغرب میں ملاوی اور زیمبیا ، مغرب میں زمبابوے اور جنوب مغرب میں سوازی لینڈ اور جنوب افریقہ واقع ہیں۔اس ملک کا دارلحکومت ما پوٹو ہے۔سرکاری زبان پرتگیزی ہے۔801590 مربع کلومیٹر رقبہ پر مشتمل اس ملک کی آبادی 29537914 نفوس پر مشتمل مشتمل ہے۔آبادی کا 56۔1 فیصد عیسائی - 17۔9 فیصد مسلمان 7۔3 فیصد دیگر مذاہب 18۔7 فیصد لا مذہب ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے تنزانیہ مشن کے تحت آنریری مبلغ رشیدی یاولی (Rashidi Yawali) کے ذریعہ 1975ء میں موزمبیق (Mozambique) میں کام کا آغاز ہوا جماعت احمدیہ کا نفوذ ہوا۔ٹیمبے (Chipembe ) میں 20-25 افراد نے احمدیت قبول کی۔لیکن بعد میں جماعت کی مخالفت اور معلم صاحب کے واپس آنے کی وجہ سے رابطے قائم نہ رہے۔ابتدائی احمدیوں میں رشیدی نادی Rashidi) Nadi اور عباس مریجالا (Abbas Marijala) بھی تھے۔تفصیل بتاتے ہوئے مکرم رشیدی یاولی صاحب کہتے ہیں کہ خاکسار 1975ء میں موزمبیق گیا اور اگلے سال 1976 ء میں واپس آنا چاہتا تھا۔اس مقصد کے لئے میں اس گاڑی میں بیٹھا جو کہ ان لوگوں کو واپس کر رہی تھی جو کہ جنگ کی وجہ سے موزمبیق