سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 164 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 164

164 کے ذریعہ کوششیں ایک عرصہ سے جاری تھیں۔مختلف طبقات فکر کے افراد کولٹر بھر بھجوایا جاتا رہا۔واقفین عارضی کے وفود بھی جاتے رہے۔16 مئی 1984ء کو 22 افراد نے بیعت کی۔1985 ء تک کم و بیش ڈیڑھ صد افراد پر مشتمل جماعت قائم ہو چکی تھی۔1987ء میں یوگنڈا سے بھی تبلیغی وفود بھجوائے گئے۔ری پبلک آف برونڈی (REPUBLIC OF BURUNDI) یہ ملک مشرقی افریقہ میں واقع ہے۔اس کے شمال میں روانڈا، مشرق اور جنوب میں تنزانیہ جبکہ مغرب میں ڈیموکریٹک ری پبلک آف کونگو موجود ہیں۔اس کے دارالحکومت کا نام Bujumbura ہے۔سرکاری زبان Kirundi اور فرنچ ہیں۔یہ ملک 27,834 مربع کلومیٹر علاقے پر محیط ہے۔آبادی کا %75 حصہ عیسائی ہے جن میں سے اکثریت رومن کیتھولک ہیں، 20% حصہ لوکل قبائلی مذہبی روایات کے علمبردار ہیں جبکہ بقیہ %5 مسلمان ہیں۔تنزانیہ کے ہمسایہ ملک برونڈی میں سب سے پہلے ایک نوجوان حسن سلیمانی احمد بیعت کر کے میں داخل ہوئے۔ان کے احمدیت کی طرف راغب ہونے کی وجہ قبولیت دعا کا ایک واقعہ ہے جو اللہ تعالٰی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے نشان کے طور پر دکھایا۔یہ نوجوان ایک موذی مرض میں مبتلا تھے۔سعودی عرب پڑھنے کے لئے گئے لیکن بیماری کی وجہ سے اڑھائی سال بعد واپس آگئے۔بہت علاج کروانے کے باوجود آرام نہ آیا۔جماعت احمدیہ سے سخت نفرت اور عناد رکھتے تھے۔جب مرض نے شدت اختیار کی تو ان کے دل میں خیال آیا کہ بانی سلسلہ احمد یہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔اور مسیح ناصری تو بیماروں کو اچھا کرتے تھے۔انہوں نے دعا کی کہ اے خدا! اگر بانی واقعی سچے دعویدار ہیں تو ان کی صداقت کے نشان کے طور پر مجھے اس موذی مرض سے شفا دے دے۔جب وہ صبح اٹھے تو بیماری کا نام ونشان بھی نہیں تھا۔انہوں نے فوراً اپنے احمدی