سلسلہ احمدیہ — Page 151
151 تبلیغ و دعوت الی اللہ کے شیریں ثمرات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ ارحمہ اللہ نے منصب خلافت پر متمکن ہونے کے بعد آغاز سے ہی جماعت کو تبلیغ اور دعوت الی اللہ کی طرف خصوصی توجہ دینے کی تاکید فرمائی۔چنانچہ آپ نے اپنے خطبات میں، خطابات میں مختلف مجالس عرفان میں، اپنے پیغامات میں، افراد جماعت احمدیہ کو، جماعتی نظام کو اور ذیلی تنظیموں کو مختلف طریق پر نہایت ہی مؤثر، ولولہ انگیز اور دل موہ لینے والے انداز میں تبلیغ اسلام اور دعوت الی اللہ کے لئے بیدار کیا اور بڑی تفصیل کے ساتھ اس کی اہمیت، اس کے طریق اور اس کے تقاضوں پر روشنی ڈالی اور مختلف پہلوؤں سے نہ صرف علمی طور پر رہنمائی فرمائی بلکہ اس کے لئے ہر ممکن ذریعہ کو استعمال کرتے ہوئے ٹھوس عملی اقدامات بھی فرمائے۔اس کے نتیجہ میں دنیا بھر میں تبلیغ اور دعوت الی اللہ کی مساعی میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے دعوت الی اللہ کی یہ مہم دن بدن زور پکڑتی گئی اور کثرت سے لوگوں کی توجہ اسلام احمدیت کی طرف ہونا شروع ہوئی۔دعوت الی اللہ کی مہم میں ان کامیابیوں پر مخالفین کی حسد کی آگ بھڑک اٹھی۔چنانچہ پاکستان میں جاری ہونے والے آرڈنینس 20 کے ذریعہ احمدیوں کو تبلیغ سے روکا گیا۔اس کی رُو سے یہ اعلان کیا گیا کہ اگر کوئی احمدی اپنے آپ کو یا اپنے عقیدہ کو اسلام کی طرف منسوب کرے گا یا اپنے عقیدہ کی اشاعت کرے گا یا اس کی طرف دوسروں کو دعوت دے گا تو اسے تین سال قید بامشقت اور اس کے علاوہ بھاری جرمانے کی سزا دی جائے گی۔حضرت خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے اس کے مقابلے کے لئے جو لائحہ عمل افراد جماعت کو عطا فرمایا اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: دوسرا ہمیں تبلیغ سے روکا جارہا ہے۔اس لئے ظاہر بات ہے کہ الٹ رہی عمل ہوگا۔ہم تو زندہ قوم ہیں اللہ کے فضل سے۔ہمیں تو جس سمت میں تم رو کو گے اسی سمت میں آگے بڑھیں گے اپنے رب کے فضل کے ساتھ اور اس کی نصرت کے ساتھ۔اس لئے تبلیغ کو پہلے سے کئی گنا زیادہ تیز کر دیں۔۔۔ہر جگہ