سلسلہ احمدیہ — Page 139
139 اور طبع میں جو جو سہولتیں میسر آئی ہیں وہ سب کو معلوم ہیں۔۔۔۔۔۔جس قدر آئے دن نئی ایجادیں ہوتی جاتی ہیں اسی قدر عظمت کے ساتھ مسیح موعود کے زمانہ کی تصدیق ہوتی جاتی ہے اور اظہار دین کی صورتیں نکلتی آتی ہیں۔اس لئے یہ وقت وہی وقت ہے جس کی پیشگوئی اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ليُظهِر لا علَى الدِّينِ كُلِم (الصف: 10) کہہ کر فرمائی تھی۔یہ وہی زمانہ ہے جو الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتى (المائدہ:4) کی شان کو بلند کرنے والا اور تکمیل اشاعت ہدایت کی صورت میں دوبارہ اتمام نعمت کا زمانہ ہے۔اور پھر یہ وہی وقت اور جمعہ ہے جس میں وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا مهم (الجمعة: 4) کی پیشگوئی پوری ہوتی ہے۔“ الحكم بلد 6 نمبر 18 مورخہ 17 مئی 1902، صفحہ 5-6) حضور علیہ السلام نے اپنی تصنیف ” تحفہ گولڑویہ میں اس امر کو بہت تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔ضرور تھا کہ جیسا کہ تکمیل ہدایت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ہوئی ایسا ہی تکمیل اشاعت ہدایت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہو۔کیونکہ یہ دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منصبی کام تھے۔لیکن سنت اللہ کے لحاظ سے اس قدر مخلور آپ کے لئے غیر ممکن تھا کہ آپ اس آخری زمانہ کو پاتے اور نیز ایسا خلود شرک کے پھیلنے کا ایک ذریعہ تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خدمت منصبی کو ایک ایسے امتی کے ہاتھ سے پورا کیا کہ جو اپنی ٹھو اور روحانیت کے رُو سے گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کا ایک ٹکڑا تھا یا یوں کہو کہ وہی تھا اور آسمان پر ظلمی طور پر آپ کے نام کا شریک تھا۔۔۔۔چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء تھے اور آپ کی شریعت حمام دنیا کے لئے عام تھی اور آپ کی نسبت فرمایا گیا تھا وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ (الاحزاب (41) اور نیز آپ کو یہ خطاب