سلسلہ احمدیہ — Page 137
137 برداشت کرتے ہیں۔اگر چہ اس جماعت کے اکثر افراد دنیوی اور مادی وسائل کے لحاظ سے بہت معمولی حیثیت رکھتے ہیں اور اس جماعت کے پاس نہ تو تیل کی دولت ہے اور نہ دوسرے معدنی ذخائر کی لیکن اس جماعت کو ایسی سیادت نصیب ہے جو خدا تعالیٰ سے مؤید و منصور ہے اور جس کی پیشگوئی پہلے سے قرآن وحدیث میں کی گئی تھی۔اور اس الہی امامت و خلافت کو سچے دلوں اور اخلاص کی دولت سے مالا مال افراد پر مشتمل ایسی جماعت عطا ہوئی ہے جو دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہوئے اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے جان، مال، وقت اور عزت سب کچھ قربان کرنے کے لئے ہمہ وقت مستعد ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کو خدمت قرآن کی اس توفیق اور سعادت کا ملنا خود قرآن مجید میں مذکور پیش خبریوں اور پیشنگوئیوں کے عین مطابق ہے اور اس کے ساتھ الہی نصرت و تائید اور کامیابی کے عظیم الشان وعدے ہیں۔خدا تعالیٰ نے یہ خدمت اور یہ سعادت پہلے سے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق ، آپ کے عظیم روحانی فرزند اور غلام ، جرى اللهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاء حضرت مسیح موعود اور وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة: 4) کی مصداق آپ کو عطا ہونے والی جماعت کے لئے مقدر فرما رکھی تھی۔سوضرور تھا کہ ایسا ہوتا اور ایسا ہی ہوا۔اور یہ وہ خاص امتیاز ہے جو کسی اور مسلمان فرد، ادارے تنظیم، فرقے یا جماعت کو حاصل نہیں۔اس بات کے ثبوت میں اور اس کی کسی قدر وضاحت کے لئے بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے بہت سے ارشادات میں سے صرف چند ایک ذیل میں ہدیہ قارئین ہیں جن میں آپ نے قرآن مجید کی روشنی میں یہ ثابت فرمایا ہے کہ مختلف زبانوں میں قرآن مجید ، فرقان حمید کے تراجم اور تعلیمات قرآنیہ کی اشاعت مسیح موعود کے زمانہ میں اور اسی کے ہاتھوں سے مقدر تھی ، جس کا آنا ظنی اور بروزی طور پر گویا خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا تھا۔اور یہ سب خدمتیں، یہ سب کامیابیاں حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا سلسلہ اور آپ ہی کی روحانی تو جہات کا فیض ہے۔