سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 117 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 117

117 حضور نے سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ جرمنی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مہر آپا کی طرف سے جرمنی کی 100 مساجد سکیم میں 3لاکھ جرمن مارک پیش کئے جائیں گے ( یہ وعدہ بعد میں بڑھا کر 5 لاکھ کر دیا) نیز اپنی طرف سے 50 ہزار مارک دینے کا اعلان فرمایا۔( جو بعد میں بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ کر دئیے ) 1997 ء میں حضور نے ایک مرتبہ پھر اس منصوبہ کی طرف توجہ دلائی۔25 نومبر 1998ء کو حضور نے پلش میں پہلی مسجد بیت الحمد کا سنگ بنیاد رکھا اور 9 جنوری 2000ء کو اس کا افتتاح ہوا۔چند سالوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسجد بیت الحمد فلش اور مسجد بشارت اوستا بروک مکمل ہو گئیں اور حضور کے دست مبارک سے ان مساجد کے افتتاح عمل میں آئے۔جبکہ مسجد بیت المومن میونسٹر کا حضور نے سنگ بنیا د رکھا۔علاوہ ازیں مسجد ناصر ( بریمن) (سنگ بنیاد نومبر 2001ء) ، مسجد نور الدین (ڈار مشھوٹ) سنگ بنیاد 11 مئی 2002ء) اور مسجد طاہر ( کو بلنز ) میں مساجد کی تعمیر خلافت رابعہ کے آخری سالوں میں شروع ہو چکی تھی۔جبکہ مسجد حبیب (کیل)، مسجد بیت العزیز (ریڈ شیڈٹ)، جامع مسجد اون باخ)، مسجد سمیع ( ہنور ) ، مسجد بیت العلیم (ورز برگ) اور مسجد الہدی (اورزنگن) کے لئے قطعات زمین خریدے جاچکے تھے۔عہد خلافت رابعہ میں جرمنی میں مساجد کی تعمیر سے متعلق بعض مزید تفصیلات درج ذیل ہیں۔مسجد بیت الشکور ( گراس گراؤ۔ناصر باغ) مسجد بیت الشکور جرمنی کے شہر Gross-Gerau میں واقع جماعتی مرکز ناصر باغ میں تعمیر ہوئی۔ناصر باغ میں لگنے والی آگ سے وہاں موجود لکڑی کی عمارت مکمل طور پر جل گئی تھی۔اس علاقہ میں احمدیوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہورہا تھا۔چنانچہ تقریب دو سال کی تگ ودو کے بعد مقامی انتظامیہ نے ناصر باغ میں مسجد بنانے کی اجازت دی۔مسجد کے ساتھ ایک بڑا ہال، دفاتر اور مبلغ سلسلہ کی رہائش بھی تعمیر کی گئی۔اس مسجد کو حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے بیت الشکور کا نام دیا۔مسجد کا