سلسلہ احمدیہ — Page 94
94 پارکنگ کی گنجائش بھی ہے جبکہ اس کے سامنے کھلی پارکنگ کی وسیع سہولت میسر ہے۔اس کے احاطہ میں احباب جماعت کی سہولت کے لیے بک شاپ کے علاوہ کریانہ کی ایک دکان بھی کھولی گئی ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنے آخری دورہ جرمنی اگست 2001ء میں اسی عمارت میں قیام فرمایا تھا اور حضور رحمہ اللہ نے ہی اس عمارت کو بیت السبوح کا نام عطا فرمایا۔ایوان خدمت بیت السبوح کے احاطہ میں ہی ایک اور چار منزلہ عمارت میں مجلس خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ جرمنی کے مرکزی دفاتر ہیں۔اس عمارت میں دفاتر کے لئے کمروں کے علاوہ دو بڑے ہال نما کانفرنس رومز بھی ہیں۔ایک رہائشی مکان ہے جسے گیسٹ ہاؤس کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔جامعہ احمدیہ جرمنی کا آغاز ہوا تو ابتدائی چند سال (2008ء تا2012ء) جامعہ کی کلاسز ایوان خدمت میں ہی ہوتی رہیں اور طلبا کے لئے ہوسٹل بیت السبوح کے مختلف حصوں میں رہا۔خلافت رابعہ میں یورپ کے درج ذیل ممالک میں پہلی بار مشن ہاؤسز اور مراکز خریدے گئے : فرانس، پر نگال، آئرلینڈ ، پنجم، پولینڈ، ترکی، البانیہ، بلغاریہ، کوسود دو اور بوسنیا۔دور خلافت رابعہ کے آخر تک اللہ تعالٰی کے فضل سے 18 ر یوروپین ممالک میں مشن ہاؤسز اور مراکز کی مجموعی تعداد 148 ہوگئی جبکہ 1984ء میں یہ تعداد گل 8 ممالک میں صرف 16 تھی۔مشرقی یورپ میں مشنوں کا قیام حضور نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 27 دسمبر 1996ء میں مشرقی یورپ کے ممالک کے لئے 15 لاکھ ڈالر کی مالی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ مشرقی یورپ کے ممالک میں مساجد قائم کرنے مشن ہا ؤس تعمیر کرنے اور ان ممالک کے لوگوں کی تربیت کے لئے ان ہی کے افراد کو تربیت دینا ایک اہم ضرورت ہے۔حضور نے فرمایا حسب معمول اس چندے کا دسواں حصہ میں خود ادا کروں گا۔نیز فرمایا کہ اس تحریک کی مدت دو سال ہوگی اور پہلے سال دو تہائی ادائیگی کرنی ہوگی۔( الفضل 30 نومبر 1996ء)