سلسلہ احمدیہ — Page 93
ہوتا ہے۔93 بيت السبوح 1974ء اور پھر 1984ء کے بعد جرمنی کی جماعتوں میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا اورسن 2000 ، تک جماعتوں کی تعداد 200 سے تجاوز کر چکی تھی۔ان حالات میں جماعت جرمنی کو ایک بڑی مرکزی عمارت کی شدید ضرورت تھی جہاں سب مرکزی دفاتر کے علاوہ ضروری رہائشیں بھی ہوں خصوصاً حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے لئے رہائش کے ساتھ ساتھ ایسی موزوں سہولت ہو جہاں آپ احباب جماعت سے بآسانی ملاقاتیں کر سکیں اور بڑی تعداد میں یہاں آنے والے نمازی حضور کی اقتدا میں نمازیں بھی ادا کر سکیں۔چنانچہ اپریل 2001ء میں اللہ تعالی نے جماعت جرمنی کو فرینکفرٹ میں موٹر وے کے بالکل قریب شہری آبادی میں 11۔Genfer Str پر واقع ایک چار منزلہ وسیع عمارت قریب سات ملین مارک میں خریدنے کی توفیق عطا فرمائی جس کا کل رقبہ ساڑھے سات ہزار مربع میٹر ہے اور اس میں چاروں منزلوں پر مشتمل مجموعی مستقف حصہ آٹھ ہزار مربع میٹر ہے۔اس میں دو بڑے اور دو نسبتا چھوٹے بال ہیں۔دونوں چھوٹے بالز کو مسجد کی شکل دے کر مردوں اور مستورات کے لئے بطور مسجد مخصوص کر دیا گیا ہے جبکہ بڑے ہال مختلف مقاصد کے لئے استعمال ہو رہے ہیں۔یہاں 2002ء سے جماعت کے علاوہ ذیلی تنظیموں کی بھی مجلس شوری منعقد ہورہی ہے۔علاوہ ازیں نماز جمعہ وعیدین بھی ہوتی ہیں۔شادیوں کے لئے بھی ان بالز کو استعمال کیا جاتا ہے۔علاوہ ازیں مختلف گراؤنڈ ز بنا کر کھیلوں کا انتظام بھی موجود ہے۔اس وسیع عمارت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے سب مرکزی دفاتر، ایم ٹی اے کا مرکزی سٹوڈیو، شعبہ اشاعت کا بہت بڑا سٹور، ہزاروں کتب پر مشتمل مرکزی لائبریری، وسیع لنگر خانہ اور دعوت الی اللہ روم قائم کئے گئے ہیں۔رہائشی حصہ میں سب سے بالائی منزل حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی رہائش کے لئے مخصوص ہے جبکہ اس کے پہلو میں مبلغ انچارج صاحب کی رہائش گاہ کے علاوہ دو دو کمروں کے چار مکان ہیں جنہیں مہمان خانہ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔اس کے احاطہ کے اندر 74 کاروں کے لئے