سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 58 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 58

58 جماعت کے چار سر کردہ دوستوں کو گرفتار کریں گے۔جب ان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو تمام موجود احمدی مردوں، عورتوں اور بچوں نے یہ اصرار کیا کہ ان کو تم اگر قید کرو گے تو ہم سب کو قید کر کے لے جانا پڑے گا۔چنانچہ ان سب کو پولیس نے اپنی حراست میں لے کر ویگن بھر کر حوالات میں داخل کرنا شروع کیا اور جب مسجد خالی ہوگئی تو پھر ان تمام حملہ آوروں نے پولیس کی معیت میں اور اس کی حفاظت میں مسجد پر ہلہ بول دیا اور مسجد کو شہید کرنا شروع کر دیا۔منہدم کرنے سے پہلے انہوں نے مسجد کے قالین، پنکھے اور دیگر قیمتی اشیاء کو سمیٹا اور جس کے ہاتھ میں جو چیز آئی وہ لے اڑا۔ان حملہ آوروں کا یہ حال تھا کہ جب وہ مسجد پر ہلہ بولتے تھے اور اسے مسمار کرتے تھے تو نعرہ ہائے تکبیر بھی بلند کرتے تھے اور لبيك اللهم لبيك کہتے تھے کہ اے اللہ ! ہم تیری آواز پر لبیک کہتے ہوئے تیری عبادتگاہوں کو مسمار کر رہے ہیں۔کونسا اللہ ہے جس کو مخاطب کر کے وہ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ کہتے تھے یقیناً و محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا الہ تو نہیں جو غیروں کی عبادت گاہوں کی بھی حفاظت کی تعلیم دیتا ہے، وہ خدا جوعیسائیوں کے معاہد کی حفاظت کی بھی تعلیم دیتا ہے، وہ خدا جس نے تمام دنیا کے معابد کی حفاظت کی تعلیم دی بلکہ مسلمانوں کو ان کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ان ظالموں نے جنہوں نے اللہ کے نام پر اور اسلام کے نام پر مسجد کو شہید کرنا شروع کیا انہوں نے مسجد احمدیہ سے جتنے قرآن کریم کے نسخے نکلے ان کو پھاڑ کر وہاں گندی نالیوں میں پھینکا، ان کو پاؤں تلے روندا اور بعض بد بختوں نے اس پر پیشاب کیا اور ساتھ نعرہ ہائے تکبیر بلند کر رہے تھے۔(ماخوذ از خطبه جمعه فرموده 22 را گست و 29 را گست 1986ء) نکانہ صاحب، اور چک نمبر 563 گب مورخہ 12 / اپریل 1989ء کو ضلع شیخو پورہ کے علاقہ نکانہ صاحب اور چک نمبر 563 گ ب میں عالمی تحریک تحفظ ختم نبوت کی زیر سر پرستی مخالفین کے ایک جلوس نے احمدیوں کے گھروں پر حملہ کیا۔ان کو لوٹا، ان کو آگیں لگائیں۔HRCP (ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان ) کی رپورٹ کے مطابق اس واقعہ کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے کہ مؤرخہ 11 اپریل کی شام ننکانہ صاحب کی ایک مسجد سے اعلان ہونا شروع ہوتے کہ چک نمبر 563 گ ب میں احمدیوں نے قرآن شریف کو