سلسلہ احمدیہ — Page 678
678 ہر ایک طرف سے جب کوئی انسان آتا ہے یا کسی نئے شخص کی طرف سے کوئی تحفہ آتا ہے تو وہ ایک نشان ظاہر ہوتا ہے۔“ ( نزول مسح ، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 540) چنانچہ آپ نے اپنی تصنیف لطیف نزول مسیح میں جو 1902ء کی تصنیف ہے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا: چونکہ اس جگہ آکر بیعت کرنے والے پچاس ہزار سے کم نہیں ہوں گے اور جو روپیہ اور مخالف متفرق وقتوں میں آئے وہ دس لاکھ سے کم نہیں ہوں گے اس لئے یہ بات بالکل صحیح اور ریچ ہے کہ علاوہ ان نشانوں کے جو اس نقشہ میں لکھے گئے ہیں کم سے کم دس لاکھ اور ایسے نشان ہیں جو العام يأتون من كل تج حبيبي اور يأتيك من كل فج عمیق سے صبح ثابت ہوتے ہیں۔“ ( نزول اسح ، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 540) پھر یہ سلسلہ صرف آپ کی حیات مبارکہ میں ہی جاری نہیں رہا بلکہ آپ کے بعد آپ کے مقدس خلفاء کے ادوار میں بھی مسلسل ترقی پذیر ہے۔اور گزشتہ سو سال سے زائد عرصہ میں بلاشبہ ایسے نشانوں کی تعداد اربوں تک جا پہنچتی ہے۔آج بھی جس جگہ خلیفتہ اسیح موجود ہوں وہاں ڈور ڈور سے لوگ بڑی محبت اور اخلاص کے ساتھ آتے ہیں تاکہ وہ خلفائے مسیح موعود کے ذریعہ سے ان برکات کو حاصل کر سکیں جو خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں آنحضرت عالم کے عظیم روحانی فرزند اور آپ کے پیارے امام مہدی علیہ السلام کے ذریعہ سے جاری فرمائیں۔ہر وہ شخص جومرکز سلسلہ میں آتا ہے اور خلیفہ اسیح کی بابرکت صحبت اور آپ کی زیارت وملاقات سے مشرف ہوتا ہے وہ اس سچے وعدوں والے خدا کی ہستی کا ایک زندہ اور تازہ ثبوت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر ایک زندہ و تابندہ نشان ہونے کا رنگ اپنے اندر رکھتا ہے۔پھر جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جلسہ سالانہ کے اغراض و مقاصد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ : م اس جلسہ میں ایسے حقائق اور معارف کے سنانے کا شغل رہے گا جو ایمان اور یقین اور