سلسلہ احمدیہ — Page 615
615 فرنچ سپیکنگ ممالک میں جماعت کی ترقی سے متعلق ایک رویا اور اس کی حیرت انگیز تعبیر حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمه الله الرابع رحمہ اللہ نے 1993ء میں فرنچ سپیکنگ ممالک میں جماعت کی ترقی اور پھیلاؤ سے متعلق ایک رؤیا دیکھی۔یہ ہفتہ 17 / جولائی 1993ء کی بات ہے۔حضور رحمہ اللہ جب دفتر تشریف لائے تو خاکسار راقم الحروف ( نصیر احمد قمر ) کو طلب فرمایا۔( خاکسار ان دنوں حضور رحمہ اللہ کے پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر خدمت کی توفیق پا رہا تھا۔) حضور انور نے خاکسار سے فرمایا کہ آج رات بہت ہی عجیب اور معنی خیز رؤیا دیکھی ہے۔اور فرمایا کہ اسے غور سے سن لیں اور پھر لکھ کر دکھا دیں۔چنانچہ حضور نے وہ رویا خاکسار کو سنائی اور خاکسار نے حسب ارشاد لکھ کر حضور کی خدمت میں پیش کر دی جو ذیل میں درج کی جاتی ہے۔ہفتہ 17 / جولائی 1993ء - آج رات میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک چھوٹی کشتی پر سوار دریا کے بہاؤ کے رخ جارہا ہوں۔کشتی میں میں اکیلا ہی ہوں۔اور ذہن میں یہ ہے کہ مجھے دریا اور سمندر کے سنگم پر پہنچتا ہے اور وہاں کسی اہم شخصیت سے ملاقات ہے۔یہ معلوم نہیں کہ وہ شخصیت کون ہے۔ذہن میں یہ بات بھی ہے کہ مجھ سے پہلے بھی ایک دفعہ کسی نے اس جگہ پہنچنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ جگہ جہاں دریا اور سمندر کا ملاپ ہوتا ہے بہت ہی مشکل اور خطرناک ہے۔چنانچہ جب میں اس سنگم پر پہنچتا ہوں تو وہاں پانی کی لہروں کے بہت ups and downs ہیں اور کافی مشکل اور خطرناک جگہ ہے۔لیکن میں گھبراتا نہیں اور بڑے اطمینان سے اس جگہ سے آگے نکل جاتا ہوں۔میں نے دیکھا کہ کناروں پر بہت لوگ کھڑے ہیں جو اس سارے نظارہ کو دیکھ رہے ہیں۔پہلے تو کشتی چونکہ دریا