سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 562 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 562

562 حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت میں داخل ہونے والوں کے لئے جو دس شرائط بیعت بیان فرمائی ہیں ان میں بھی خاص طور پر خلق خدا کی خدمت کی طرف توجہ دلائی ہے۔چنانچہ نویں شرط بیعت میں حضور علیہ السلام فرماتے ہیں یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض الله مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خداداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔“ (ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ 464 روحانی خزائن جلد سوم صفحہ 564) چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء کرام کی تعلیم وتربیت اور ان کے پاک اسوہ کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے خدمت خلق میں جماعت احمد یہ ایک طرہ امتیاز رکھتی ہے جو قرآن و حدیث کی تعلیمات کے مطابق انفرادی اور ذاتی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر جماعتی لحاظ سے بھی سرا وَ عَلَانِيَةً اپنی تمام تر استعدادوں اور صلاحیتوں کے ساتھ خالصة لوجه الله خدمت خلق کے کام سر انجام دیتی ہے اور اس کے نتیجہ میں ان میں کسی قسم کا تکبر یا فخر وغرور یا دکھاوے کا کوئی شائبہ تک نہیں پایا جاتا۔بلکہ جس قدر خدمت خلق کا موقع ملے اسے اللہ تعالیٰ کا ایک احسان سمجھتے ہوئے ان کے سر اس کے حضور شکر گزاری کے جذبہ کے ساتھ مزید جھک جاتے ہیں۔خود حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء کے زمانہ میں خدمت خلق کی جو بھی تحریکات ہوئیں ان میں جماعت نے ہمیشہ ایک شان کے ساتھ لبیک کہا اور خدمت کے سب میدانوں میں نمایاں خدمات کی توفیق پائی۔جماعت احمدیہ کی تاریخ کا ہر ورق اس امر کی گواہی دیتا ہے کہ اس نے ہر دور میں دکھ اٹھا کر دوسروں کو آرام پہنچایا ظلم و ستم کی کڑی دھوپ میں جل کر غریبوں کو سائبان مہیا کیا۔خود تشنہ رہ کر بھی دوسروں کی پیاس بجھاتی رہی۔اس پر گالیوں کے کنکر اور طنز کے تیر برسائے جاتے رہے لیکن جواب میں جماعت دعاؤں کے پھول برساتی رہی۔اور يُؤْثِرُونَ عَلَی انفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ (الحشر : 10) کے مصداق نہایت روشن اور تابندہ مثالیں قائم کیں۔جماعت میں پہلے سے جاری خدمت خا سے جاری خدمت خلق کی با برکت تحریکات حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ کے