سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 34 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 34

34 گریہ وزاری سے عرش کے کنگرے بھی لرزنے لگیں گے۔پس اس غم کی حفاظت کریں اور اسے ہر گز نہ مرنے دیں۔یہاں تک کہ خدا کی تقدیر خود اسے خوشیوں میں تبدیل کر دے۔اگر آپ ایسا کریں گے تو میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ دنیا کی ساری طاقتیں بھی مل کر آپ کو شکست نہیں دے سکتیں۔لازما آپ کامیاب ہوں گے۔“ ( الفضل 4 مئی 1984ء) افراد جماعت احمدیہ پاکستان نے بالخصوص اور عالمگیر جماعت احمدیہ نے بھی جس طرح اخلاص اور محبت اور وفا کے ساتھ ان نصائح پر عمل کیا اور پھر جس طرح خدا تعالیٰ نے اس صبر اور قربانی اور وفا پر اپنے پیار کی نظر ڈالتے ہوئے اس غم کو خوشیوں میں بدلا اور دنیا بھر میں جماعت احمد یہ پہلے سے کئی گنا بڑھ کر مضبوط و مستحکم ہوئی اور اشاعت اسلام و احمدیت کی نئی راہیں کشادہ ہوئیں اور عظیم روحانی ترقیات و فتوحات کے دروازے خدا تعالٰی کی طرف سے کھولے گئے وہ ان دعاؤں اور صبر کی قبولیت پر عظیم الشان گواہ ہیں۔اس کتاب میں جماعت کی انہی عالمگیر فتوحات اور کامیابیوں میں سے بعض کا اختصار سے تذکرہ کیا گیا ہے۔پاکستان میں آرڈینس نمبر 20 کے اجراء کے بعد جماعت پر کئے جانے والے مظالم کو گویا قانونی تحفظ حاصل ہو گیا تھا۔اس کے نتیجہ میں یہاں متعد دشہادتیں ہوئیں۔لوٹ مار کی گئی۔احمد یہ مساجد کو مسمار کیا گیا۔لوٹ مار کر کے جلایا گیا۔کئی مساجد کو سر بمہر کر کے بند کر دیا گیا۔احمدیوں کو نوکریوں سے نکالا گیا۔ان کی دکانوں کو لوٹا اور جلایا گیا۔احمدیوں کے خلاف سراسر جھوٹے اور ناجائز مقدمات قائم کئے گئے۔مدفون احمدیوں کی نعشوں کی بے حرمتی کی گئی۔تعلیمی اداروں میں احمدی طلباء کے داخلے رو کے گئے، اور اگر داخلے ہو چکے تھے تو انہیں وہاں سے نکالا گیا۔سرکاری محکموں میں ملازم احمدیوں سے نہایت توہین آمیز ، غیر اخلاقی اور غیر انسانی سلوک کیا گیا۔غرضیکہ ہر پہلو سے اور ہر سطح پر احمدیوں پر ہر قسم کے ممکنہ ظلم وستم کو روا رکھا گیا۔ستم بالائے ستم یہ کہ یہ سب کچھ اسلام کے نام پر کیا گیا اور حکومت اور قانون کی چھتری کے نیچے یہ سب کچھ ہوا۔