سلسلہ احمدیہ — Page 531
531 فرانس کو مشن ہاؤس بیت السلام سے ملحقہ ایک رہائشی عمارت خریدنے کی توفیق عطا ہوئی۔اور 20 اگست 2006ء کومشن ہاؤس کی زمین کے ساتھ ایک اور مکان بھی خریدا گیا۔یوں 1985ء میں خریدا جانے والا مشن ہاؤس اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ خلافت خامسہ کے مبارک دور میں دومزید رہائشی عمارات کے اضافہ کے ساتھ کافی وسعت اختیار کر گیا۔اور حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ کی زیر ہدایت اس جگہ مسجد کی تعمیر کے لئے کوششوں کا آغاز ہوا۔یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔مقامی میئر اور کونسل کی طرف سے کافی مشکلات پیدا کی گئیں۔پھر ایک موقع پر جب حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ فرانس تشریف لائے تو میئر کو بھی دعوت دی گئی۔وہ دس منٹ کے لئے آنے کا وعدہ کر کے آئے لیکن حضرت خلیفہ اسیح کی پر جذب روحانی شخصیت نے ان کو ایسا متأثر کیا کہ انہوں نے قادیان کے جلسہ کی مناسبت سے حضور ایدہ اللہ کے فرانس سے ایم ٹی اے کے توسط سے براہ راست خطاب کو مکمل طور پر سنا اور بہت دیر تک مشن ہاؤس میں رہے۔حضور ایدہ اللہ کی دعاؤں سے کونسل کے رویہ میں تبدیلی آنی شروع ہوئی۔علاقہ کی کونسل اور میئر نے مسجد تعمیر کرنے کی اجازت دیدی اور تمام قانونی مراحل طے کرنے کے بعد جولائی 2006ء میں مسجد کی تعمیر کے سلسلہ میں نقشہ جات منظور ہو کر آگئے۔26 جنوری 2007ء کو مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔مکرم عبد الماجد طاہر صاحب ایڈیشنل وکیل التبشير لندن کو حضور ایدہ اللہ نے اس موقع پر اپنے نمائندہ کے طور پر بھجوایا۔مسجد کی تعمیر کا کام کم و بیش ڈیڑھ سال تک جاری رہا۔اس غرض سے افراد جماعت فرانس نے بڑی محبت اور بشاشت کے ساتھ مالی قربانی میں بھی حصہ لیا۔مسجد کی تعمیر کی غرض سے پرانی عمارت کو مسمار کرنے اور ملبہ اٹھانے کا کام ملا کر تعمیر کے خرچ کا تخمینہ کم و بیش دس لاکھ یورو کا تھا۔مگر افراد جماعت نے کئی ماہ تک مسلسل وقار عمل کر کے تقریبا چھ لاکھ یورو کی رقم بچائی اور تین لاکھ بیس ہزار یورو میں مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی۔اس مسجد میں کم و بیش 450 / افراد کے لئے نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے۔مسجد کا گنبد اور مینار بھی ہے۔8 را کتوبر 2008ء کو جب حضرت خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ اس مسجد کے افتتاح کے لئے فرانس