سلسلہ احمدیہ — Page 523
523 ہو چکی ہیں، جو قائم ہیں اور پھیل بھی رہی ہوں گی لیکن ہمیں ان کی تفاصیل کا کوئی علم نہیں تھا۔سب سے پہلے جب مجھے روس میں جماعت احمدیہ کے متعلق جو علم ہوا ہے وہ ایک روسی انسائیکلو پیڈیا کے مطالعہ سے ہوا جو انگلستان سے غالبا بشیر احمد صاحب رفیق نے یا کسی نے معلوم کر کے مجھے مطلع کیا کہ یہاں ایک روسی انسائیکلو پیڈ یا شائع ہوا ہے جس میں جماعت احمدیہ کے اوپر ایک روسی سکالر نے مقالہ لکھا ہے اور اس مقالے میں احمدیت کے متعلق کئی قسم کی باتیں درج ہیں۔چنانچہ میں نے تحقیق کر کے اس مقالے کو حاصل کیا اور اس کے انگریزی اور اردو میں تراجم کروائے اور ان تراجم سے بعض بہت دلچسپ باتیں سامنے آئیں۔ان میں سے ایک یہ تھی کہ روسی مقالہ نگار نے بڑی تحدی کے ساتھ یہ لکھا کہ روس میں بھی احمد یہ جماعتیں موجود ہیں لیکن ان کا تعلق اپنے مرکز سے کٹ چکا ہے۔اور اس کی وجہ مقالہ نگار نے یہ بیان کی کہ ان کو غالبا اپنے مرکز سے یہ ہدایت ہے کہ روس میں رہتے ہوئے ہم سے تعلق نہ رکھو۔یہ بات تو غلط ہے۔غالبا انہوں نے اس بات کو چھپانے کے لئے یعنی اس پر پردہ ڈالنے کے لئے کہ روس نے مذہبی جماعتوں کو بیرونی دنیا سے تعلق رکھنے پر روکیں عائد کر رکھی ہیں یہ ایک بہانہ تراشا اور باوجود اس کے کہ یہ تسلیم کیا کہ جماعتیں موجود ہیں لیکن یہ بات غلط کہہ دی کہ مرکز نے گویا جماعتوں کو ہدایت دے رکھی ہے کہ ہم سے رابطہ نہ کرو۔اب سوال یہ ہے کہ ان سے رابطہ کیسے ہونا تھا اور خدا کی تقدیر میں کیا مقدر تھا۔اس بات کو بیان کرنے کے لئے آپ کو میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک رویا بتا تا ہوں۔اس رویا میں حضرت مصلح موعوددؓ یہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ہمارے ملک میں حالات خطر ناک ہو چکے ہیں۔اس قسم کے ہو گئے ہیں کہ مجھے وہاں سے ہجرت کرنی پڑ رہی ہے اور اس ہجرت کے دوران میری گود میں میرا ایک بچہ ہے جس کا نام طاہر احمد ہے اور اس کے علاوہ اور کوئی بچہ ساتھ نہیں۔اس ہجرت کے دوران میں ایک نئے ملک میں پہنچتا ہوں اور اس ملک میں داخل ہو کر میں ان سے پوچھتا ہوں کہ یہ کون سا ملک ہے؟ تو بتاتے ہیں کہ روس ہے۔اور جب میں ان لوگوں سے گفتگو کرتا ہوں اور ان کے متعلق پوچھتا ہوں کہ وہ کون لوگ ہیں تو ایک آدمی ہلکی سی آواز میں احتیاط کی طرف