سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 507 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 507

507 آنا تھا وہ غلطی سے میرے نام آگیا اور یہ اطلاع پہلے مجھے ملی بجائے اس کے کہ ان کو ملتی۔اس واقعہ میں کئی اسباق پنہاں ہیں۔ایک یہ کہ یہ تو بہر حال پختہ بات ہے کہ یہ ایک ایسا غیر معمولی واقعہ ہے جو اس علاقہ میں دسیوں سالوں میں بھی کبھی رونما نہیں ہوا اور پھر جمعہ کے دن اور رمضان المبارک کی دس تاریخ کو رونما ہوا ہے۔ان حقائق کو دنیا مٹا نہیں سکتی ، کوئی ان کو غلط نہیں کرسکتا۔لیکن ایک خطرہ پیدا ہوا اور ٹل گیا۔خواہ وہ کتنا ہی غیر معمولی خطرہ تھا لیکن بہر حال ٹل گیا۔اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے یا اس کا کیا نتیجہ ہمیں نکالنا چاہئے۔یہ دیکھنے والی بات ہے۔میرے ذہن میں اس کے کئی نتائج آتے ہیں جن کے بارہ میں میں احباب جماعت کو مطلع کرنا چاہتا ہوں۔پہلی بات تو یہ کہ اگر چہ یہ رویا اس واقعہ پر چسپاں ہوتی نظر آرہی ہے اور یہ ایک غیر معمولی بات ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہوا کرتا کہ ایک ہی دفعہ ایک بات پوری ہو۔خدا تعالی کی طرف سے بعض ایسے کشوف اور الہامات ہوتے ہیں جو بار بار تکرار کے ساتھ پورے ہوتے ہیں۔قرآن کریم کی بعض آیات سے بھی پتہ چلتا ہے کہ بعض نشان پیچھے پڑ جانے والے ہوتے ہیں اور وہ بار بار پورے ہوتے ہیں۔پس ایک تو یہ امکان بھی ہے۔اس کے علاوہ بھی اگر خدا تعالی چاہیے تو زیادہ وضاحت کے ساتھ اس نشان کو پورا فرما سکتا ہے۔دوسرے جب ہم اس واقعہ پر غور کرتے ہیں تو کئی سبق ملتے ہیں۔پہلا یہ کہ خدا تعالیٰ جب کسی قوم کو پکڑنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کی پکڑ کے رستے بہت ہیں۔بسا اوقات وہ ایسے رستہ سے بھی پکڑتا ہے جس کی قوم توقع ہی نہیں کرسکتی ، وہم و گمان بھی نہیں کیا جاسکتا کہ اس طرف سے بھی کوئی واقعہ رونما ہوگا۔1974ء کے فسادات کے بعد قوم مختلف ابتلاؤں میں بار بار پکڑی گئی۔مثلاً بلوچستان کی خشک پہاڑیوں پر غیر متوقع بارش کے نتیجہ میں سندھ میں ایک ایسا سیلاب آیا تھا جس کا آدمی وہم و گمان بھی نہیں کرسکتا کہ بلوچستان کے خشک پہاڑ سیلاب کا موجب بن جائیں گے۔لیکن بلوچستان کے پہاڑوں کے سیلاب کی وجہ سے سندھ کا بہت سا علاقہ تباہ ہوا۔چنانچہ اخباروں میں اس بات کی نمایاں سرخیاں لگیں۔پس اللہ تعالیٰ کی جب پکڑ آتی ہے تو معلوم بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس کی پکڑ کے مختلف رستے ہیں۔وہ قادر و توانا