سلسلہ احمدیہ — Page 426
426 لیکن اس کے علاوہ بعض انفرادی نشانات بھی ظاہر ہوئے ہیں اور وہ ایسے نشانات ہیں جن کی ضرورت اس لئے پڑتی ہے کہ بعض لوگ ان وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے نشانات کے مطالعہ کی بصیرت نہیں رکھتے۔ان کی نظر میں یہ توفیق نہیں ہوتی ، لگا ہیں محدود ہوتی ہیں۔یہ توفیق نہیں ہوتی کہ اس عالی حیثیت سے ان نشانات کا مطالعہ کریں اور موازنہ کریں اور اس طرح صداقت اور جھوٹ میں تفریق کر کے دیکھ سکیں۔پس ان کے لئے پھر خدا تعالٰی بعض نشانات کی انفرادی چوٹیاں قائم کرتا ہے۔ایسے لوگ جن پر ان کی نظر ہوتی ہے ان کے ساتھ خاص سلوک کرتا ہے اور وہ سلوک دیکھ کر پھر بعض دفعہ وہ عبرت کا نشان بنتے ہیں، بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے ہوئے وہ دنیا کے لئے ایک نمونہ بن جاتے ہیں کہ اس طرح خدا تعالی کی برکتیں عطا کی جاتی ہیں۔ضیاء الحق کی ہلاکت اس پہلو سے سب سے زیادہ اہم ذکر ضیاء الحق صاحب سابق صدر پاکستان اور سابق ڈکٹیٹر پاکستان کا ہے۔اس کی تفاصیل میں اب دوبارہ جانا مناسب نہیں۔لیکن آپ جانتے ہیں کہ یہ مباہلہ کا چیلنج جو دراصل جس کا آغاز رمضان مبارک 1988 مئی میں ہوا تھا غالباً 14 رمئی یا 17 مئی کو یہ پہلی دفعہ درس میں میں نے اس کا ذکر کیا تھا۔لیکن چیلنج باقاعدہ 10 جون کے خطبے میں یعنی بروز جمعہ دیا گیا۔اس کے بعد بار بار مرحوم صدر کو یہ توجہ دلائی جاتی رہی کہ آپ اگر چیلنج قبول کرنے میں سیکی محسوس کرتے ہیں، کسی قسم کی خفت محسوس کرتے ہیں اس خیال سے کہ آپ بہت بڑے آدمی ہیں اور میں بالکل بے حیثیت اور چھوٹا انسان ہوں یا جماعت کی آپ کی نظر میں کوئی بھی قدر و قیمت نہیں ہے تو کم سے کم ظلم سے باز آ جائیں۔اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو میری دعا یہ ہے کہ خدا کی نظر میں یہ مباہلہ قبول سمجھا جائے۔یعنی خدا کی نظر میں آپ کی حیثیت مباہلہ قبول کرنے والے کی شمار ہو اور پھر خدا کا عذاب آپ پر نازل ہو۔اس لئے میں آپ کو متنبہ کرتا ہوں۔ہاں اگر آپ ان چیزوں سے باز آجائیں تو آپ کا پیغام ہمیں یہی ہوگا کہ ہاں میں مباہلہ قبول کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا یعنی مباہلہ قبول کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا اس لئے میں اپنے ظلموں سے تو بہ کر رہا ہوں۔ایسی صورت میں ہم یہ دعا کریں گے کہ اللہ تعالٰی آپ پر فضل فرمائے ، آپ کو مزید ہدایت