سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 392 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 392

392 اس پس منظر میں حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنے عہد خلافت کے دوسرے جلسہ سالانہ (دسمبر 1983ء) کے موقع پر اپنی ایک پُر شوکت نظم میں جو انذار فرمایا وہ بعد میں حیرت انگیز طور پر ایک نشان کی صورت میں پورا ہوا۔آپ نے فرمایا: دو گھڑی صبر سے کام لو ساتھیو! آفت ظلمت وجور عمل جائے گی آو مومن سے ٹکرا کے طوفان کا رخ پلٹ جائے گا، رت بدل جائے گی تحم دعائیں کرو یہ دعا ہی تو تھی، جس نے توڑا تھا سر کبر عمر ودکا ہے ازل سے یہ تقدیر نمرودیت ، آپ ہی آگ میں اپنی جل جائے گی یہ دُعا ہی کا تھا معجزہ کہ عصا، ساحروں کے مقابل بنا اژدھا آج بھی دیکھنا مر وحق کی دعا بسحر کی ناگنوں کو نگل جائے گی ہے ترے پاس کیا گالیوں کے سوا، ساتھ میرے ہے تائید رب الوریٰ کل چلی تھی جو لکھو پہ تریخ دعاء آج بھی اذن ہو گا تو چل جائے گی دیر اگر ہو تو اندھیر ہر گز نہیں، قولِ أُمَلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِي مَتِدِين سنت اللہ ہے، لا جرم بِالْیقیں، بات ایسی نہیں جو بدل جائے گی 19 دسمبر 1983ء کو جنرل ضیاء نے ایک غضب آلود بیان میں احمدیوں کو منافقین اور مشرکین قرار دیتے ہوئے دھمکی دی کہ انہیں ختم نبوت یا نظریہ اسلام سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔روزنامه جنگ لاہور 20 دسمبر 1983ء) اگلے سال 17 فروری 1983ء کو ایک خاص سازش کے تحت اسلم قریشی کی پر اسرار گمشدگی کا ڈھونگ رچایا گیا اور اس کے اغوا اور قتل کی تہمت جماعت احمدیہ کے مقدس امام حضرت مرزا طاہر احمد خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ پر لگائی گئی۔شخص 12 جولائی 1988ء کوڈرامائی انداز میں واپس آ گیا۔اس کی تفصیل الگ بیان ہو چکی ہے۔) 15 اپریل 1984ء کو جنرل ضیاء الحق نے لاہور میں ایک سیمینار میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیوں کو اپنے عقائد کی تشہیر کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔اگر انہوں نے اپنی تبلیغ بند نہ کی تو ان کے