سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 384 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 384

384 کو گمراہی سے بچالیں۔ہماری تو سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ آخر آپ فیصلہ خدا تعالیٰ کی عدالت میں لے جانے سے ہچکچاہٹ کیوں ظاہر کر رہے ہیں۔“ مباہلہ کا اصل مقصود ( بحوالہ ہفت روزه بدر قادیان 19 جنوری 1989 ، صفحہ 1 اور 6) حضور رحمہ اللہ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 5 ر ا گست 1988ء میں بتایا کہ مباہلہ سے مقصد صرف اتنا ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے روشن نشان ظاہر فرمائے جس کے نتیجہ میں کثرت سے لوگ ہدایت پائیں۔آپ نے فرمایا:۔۔۔اس لیے اگر عبرت انگیز نشان چاہتے ہیں تو اس وجہ سے کیونکہ عبرت میں دنیا کا ایک نشان کو دیکھنے کا مضمون شامل ہوتا ہے۔جب کہتے ہیں کہ فلاں سزا میں عبرت پائی جاتی ہے تو مراد یہ ہے کہ لوگ کثرت سے اُسے دیکھیں اور اس سے استفادہ کریں۔تو آپ عبرت کے نشان ضرور مانگیں اور یہ دعا ضرور کریں کہ وہ علماء جو بد کلامی سے باز نہیں آرہے، جو مباہلہ کے مضمون کو بھی دھوکے کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور مزید تخلق خدا سے مکرو فریب سے کام لے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ اُن کے مکر و فریب ننگے کر دے، اُن کے جھوٹ ظاہر فرمادے اور انہیں عبرتناک سزائیں دے۔تاکہ دنیا ان کی سزاؤں سے استفادہ کرے اور وہ جو ڈرنے والے ہیں اور وہ خاموش اکثریت جو در اصل حما شاہین ہے اُسے بھی اس مذاب سے بچائے۔۔۔خدا تعالیٰ سے یہ دھا کریں کہ صرف وہ معاندین تیرے مذاب کے نیچے آئیں اور عبرت کا نشان بنیں جنہوں نے عمداً جانتے بوجھتے حق کی مخالفت کا بیڑہ اُٹھا رکھا ہے۔۔۔اور کھلم کھلا کذاب ہیں اور شرارت اور افترا پردازی سے باز نہیں آر ہے اور ان کے وہ مرید اور ماننے والے جو ہمیشہ فساد میں ان کا ساتھ دیتے ہیں اور جب وہ انہیں معصوم انسانوں پر ظلم کے لیے بلاتے ہیں تو لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں صرف ان کو اپنے عذاب کا نشان بنا اور عبرت کا نشان بنا۔۔اگر عبرت کے نشان کے ساتھ ساری قوم ہی مٹ جائے تو پھر حق کو قبول کون کرے گا۔اس خیال سے بھی۔۔۔کہ اکثریت بچ جائے ، اکثریت اس نشان کو دیکھے، اکثریت اس نشان سے فائدہ اٹھائے اور اللہ تعالی کے فضل اور رحم کے ساتھ اس مباہلہ کے بعد احمدیت ایک عظیم