سلسلہ احمدیہ — Page 325
325 کتاب غیر معمولی افادیت کی حامل ہے۔اس کتاب کے ذیلی عنوانات میں سے بعض ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔ان عنوانات سے بھی اس کی اہمیت کا کسی قدرا ندازہ کیا جاسکتا ہے۔1۔مذاہب عالم کے مابین امن و آشتی اور ہم آہنگی مذہبی اقدار کو فضول اور غیر ضروری سمجھ لیا گیا۔انبیاء ہر قوم میں مبعوث ہوتے رہے ہیں۔بلحاظ منصب تمام انبیاء برابر ہیں۔کیا منصب میں برابری کے باوجود انبیاء کے مقام و مرتبہ میں فرق ہو سکتا ہے؟ نجات پر کسی ایک مذہب کی اجارہ داری نہیں ہوسکتی۔مذاہب کے مابین ہم آہنگی اور باہمی احترام کا فروغ۔مذہب کے عالمگیر ہونے کا نظریہ۔اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے۔اشاعت دین کے ذرائع۔جبر کی بکلی نفی۔کون سامذہب باقی رہے گا؟ ( بقائے اصلح )۔آزادی تقریر۔آزادی کی حدود۔مذہبی تقدس کی پامالی۔مذاہب کا باہمی تعاون۔حاصل بحث۔2۔معاشرتی امن عصر حاضر کا معاشرتی نظام۔دو قسم کے معاشرتی ماحول۔مادہ پرست معاشرہ کا انجام۔حیات بعد الموت کا انکار۔مادہ پرست معاشرہ کی چار خصوصیات اعمال کی جوابدہی کا تصور۔اسلامی معاشرہ کا مخصوص ماحول۔اسلامی معاشرہ کے بنیادی اصول۔عفت اور پاکدامنی۔پردہ اور اس کی حقیقت۔حقوق نسواں کے ایک نئے دور کا آغاز۔عورتوں کے لئے مساوی حقوق۔تعدد ازدواج - عمر رسیدہ افراد کی دیکھ بھال۔مستقبل کی نسلیں۔بے مقصد اور فضول مشاغل کی حوصلہ شکنی۔خواہشات پر قابو پانا۔عہد و پیمان اور معاہدات کا احترام۔برائی کا خاتمہ۔ایک اجتماعی ذمہ داری۔اوامر و نواہی۔اسلام نسل پرستی کورڈ کرتا ہے۔3۔معاشرتی اقتصادی امن سرمایہ دارانہ نظام، سوشلزم اور اسلام میں معاشی انصاف کا تصور۔تنگ دستی کے باوجود اعلی مقاصد کے لیے خرچ کرنا۔غرباء کے لیے خرچ کرنا۔شکر گزاری کا جذبہ۔نیکی کے اجر کی توقع کسی انسان سے نہ