سلسلہ احمدیہ — Page 264
264 چنانچہ وہ فوجی اپنی اہلیہ کو لے کر اپنے سسرال (یعنی پٹواری صاحب کے ہاں ) آیا اور کہا کہ مولوی صاحب کو یہاں سے نکالو ورنہ اپنی بیٹی سنبھالو۔اب پٹواری صاحب بے چارے گھبرا گئے۔کچھ سمجھ نہیں آتی تھی کہ کیا کریں۔پٹواری صاحب کے گھر میں ایک کہرام کا ساعالم بر پا ہو گیا۔آخر مجبوراً مولوی صاحب کو کمرہ خالی کرنے کے لئے کہہ دیا گیا۔مولوی صاحب نے بھی اپنا سامان باہر رکھنا شروع کردیا مگر کچھ معلوم نہیں تھا کہ کہاں جانا ہے۔ساتھ دعائیں بھی کر رہے تھے۔دوسری طرف قدرت نے یہ نشان دکھایا کہ اسی صبح دہلی سے ایک خاتون کچھ دنوں کے لئے گاؤں واپس آتی۔جب انہیں اس صورت حال کا علم ہوا تو انہوں نے مولوی صاحب کو اپنے مکان کی پیشکش کر دی اور کہا کہ چونکہ ہم دہلی میں رہتے ہیں اس لئے اس گاؤں میں ہمارا امکان خالی ہے آپ جب تک چاہیں رہیں۔اس خاتون نے مکان کی چابیاں مولوی صاحب کے سپر د کیں اور شام کو واپس چلی گئی اور یوں لگتا ہے کہ وہ دہلی سے صرف اسی غرض کے لئے آئی تھی۔اُدھر پٹواری صاحب کا داماد شرم کے مارے منہ چھپائے پھرتا رہا اور لوگوں کے سامنے آنے سے بھی کتر ا تارہا۔“ اسی طرح مکرم سید سعید احمد صاحب لکھتے ہیں کہ : ساند ھن یوپی میں 15 افراد بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہوئے ہیں اور یہ وہ افراد ہیں جو 1924ء سے تحریک ارتداد میں شامل ہو چکے تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے مبلغین کو نہ صرف موجودہ تحریک شدھی کے خلاف جہاد کرنے کی توفیق ملی بلکہ گزشتہ 1924ء کی تحریک شدھی کے نتیجہ میں ارتداد اختیار کرنے والوں میں سے جو بچے کچھے رہ گئے تھے اب ان کو بھی واپس اسلام میں لانے کی توفیق مل رہی ہے۔“ اسی طرح آپ لکھتے ہیں: کھاڑیا ( اجمیر ) جہاں ہمارا ایک سنٹر ہے۔وہاں ایک ہینڈ پمپ لگوانے کا پروگرام